پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سے خوفناک وباء دنیا بھر میں پھیلنے لگی ،اس بیماری پرکسی بھی قسم کی اینٹی بائیوٹک اثر انداز نہیں ہورہی ہیں،پورے ملک کے متاثر ہونے کا خدشہ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 23  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان سے خوفناک وباء دنیا بھر میں پھیلنے لگی ،اس بیماری پرکسی بھی قسم کی اینٹی بائیوٹک اثر انداز نہیں ہورہی ہیں،پورے ملک کے متاثر ہونے کا خدشہ،حیرت انگیزانکشافات، تفصیلات کے مطابق پاکستانی اور غیرملکی ماہرین نے اپنی تازہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی ایک ایسی نئی قسم تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے جس پرکسی بھی قسم کی مدافعتی ادویات کا اثر نہیں ہوتا

اور ماہرین اس پر قابو پانے کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیںیہ تحقیق آغا خان یونیورسٹی اور برطانیہ کی کیمبرج یونیوسٹی کے طبی ماہرین نے مل کر کی ہے جس کے مطابق اس نئی قسم پر بہت کم اینٹی بائیوٹکس اثر کرتی ہیں اور یہ دوبارہ خوبخود جنم لے لیتا ہے۔ٹائیفائیڈ کا یہ جراثیم 14 ماہ قبل سب سے پہلے صوبہ سندھ میں دریافت ہوا تھا اور اب ملک کے کئی مقامات اور برطانیہ تک بھی پھیل چکا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ محققین کے مطابق پاکستان کے صوبہ سندھ میں یہ مزاحمتی ٹائیفائیڈ بیکٹیریا حیدرآباد کے متصل اضلاع تک پھیل گیا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ پورے پاکستان میں بھی پھیل سکتا ہے اور اس کا علاج مہنگا ترین اور پیچیدہ ہوگا،صوبائی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر محمد اخلاق خان نے برطانوی نشریاتی کو بتایا کہ حیدرآباد کے علاوہ ٹنڈو الہ یار، بدین اور جام شورو اضلاع میں بھی یہ ٹائیفائیڈ بیکٹیریا رپورٹ ہوا تھاان کا کہنا تھا کہ یہ ٹائیفیڈ نومبر 2016 کو پہلی مرتبہ رپورٹ ہوا تھا اور اس میں تین سے پانچ سال کی عمر کے بچے متاثر ہو رہے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اب آغا خان یونیورسٹی کی مدد سے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جارہی ہیں اور یونیورسٹی نے ڈھائی لاکھ ویکیسین فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ محکم? صحت نے بھی آگاہی کی مہم شروع کی ہے اور عالمی ادارے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے کلورین کی ٹیبلٹس بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر غزالہ شیخ کا کہنا ہے کہ اینٹرک فیور( ٹائیفائیڈ کا بخار) میں جو عام طور پر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرتے ہیں مریضوں کو وہ ہی دی گئیں لیکن چار روز گزرنے کے باوجود بھی اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تو پھر انھوں نے مریضوں کے ٹیسٹ کرائے جس کے نتائج پازیٹو آئے۔’بلڈ اور کلچر ٹیسٹ مہنگا ہے اس لیے ہم نے آغا خان ہسپتال حیدرآباد کو بھی شامل کیا۔ ان ٹیسٹوں کی رپورٹس سے ہمیں پتہ چلا کہ جو معمول کی اینٹی بایوٹکس ہیں وہ اس پر اثر نہیں کر رہی ہیں۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں یہ اینٹی بائیوٹکس ادویات کے خلاف مزاحم ٹائیفائیڈ کی پہلی وبا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…