ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

ن لیگ نے ہمیشہ مخالفت کی ہے لیکن خوفزدہ نہیں ،نوازشریف کی دوسری نااہلی کے بعد صورتحال تبدیل،پرویزمشرف نے وطن واپسی کا اعلان کردیا

datetime 22  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں،انتخابات سے قبل پاکستان آکر انتخابی مہم کی قیادت کروں گا۔ن لیگ نے ہمیشہ مخالفت کی ہے،خوفزدہ نہیں ہوں،عدالتوں کا سامنا کیا ہے اور آئندہ بھی کروں گا۔عدلیہ کے حالات بدل چکے ہیں،انصاف کی امید ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو آل پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان عوامی اتحادکے ایک اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ڈاکٹر محمد امجد،چیف آرگنائزرسید فقیر حسین بخاری،سیکرٹری جنرل مہرین ملک آدم،پاکستان عوامی اتحاد کے سیکرٹری جنرل اقبال ڈار،ریاض فتیانہ،پاکستان سنی تحریک کے صدرثروت اعجاز قادری،پاکستان مسلم الائنس اور پاکستان اہل حدیث کے راہنما،اے پی ایم ایل متحدہ عرب امارات کے صدر غوث شہزاد اور دیگر موجود تھے۔اپنے خطاب میں سید پرویز مشرف نے موجودہ ملکی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پرزور دیا۔انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہماری عدالتوں کا حال بہت خراب تھا مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا نظریہ سب سے پہلے پاکستان ہے اور اس وقت پاکستان کو میری ضرورت ہے۔چاہے کچھ بھی ہو انتخابات سے پہلے پاکستان آکر پاکستان عوامی اتحاد اور انتخابی مہم کی قیادت کرنی ہے۔ن لیگ نے ہمیشہ میری مخالفت کی مگر میں کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں۔تین سال میں 15سے زائد مرتبہ عدالتوں میں پیش ہوا ہوں مگر انصاف نہیں ملا بلکہ الٹے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم اب ہماری عدلیہ بدل چکی ہے۔عدالتوں میں پیش ہوکرمقدمات کا سامنا کروں گا۔عدالت سے امید ہے کہ انصاف ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم یا صدر نہیں بننا چاہتا بلکہ اپنی سوچ کے ذریعے حکومت کو گائیڈ کرکے ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کا خواہاں ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وقت آنے پرفیصلہ کروں گا کہ لاہور،کراچی یا اسلام آباد لینڈ کروں۔ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ سید پرویز مشرف جہاں بھی اتریں ان کا شاندار استقبال کریں گے۔آج ہمارے ساتھ چھوٹی بڑی23جماعتوں کا اتحاد ہے اور ہم ایک قوت ہیں۔اقبال ڈار نے کہا کہ سید پرویز مشرف ہمارے اتحاد کے سربراہ ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اتحاد کے لیڈر کو پاکستان میں ہونا چاہئیے۔اسی لئے آج کے اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے راہنماؤں کی طرف سے سید پرویز مشرف سے وطن واپس آکر اتحاد کو فرنٹ سے لیڈ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ ہم پہلے بھی سید پرویز مشرف اور ان کی جماعت کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لئے کسی عام نہیں بلکہ قابل ترین لیڈر کی ضرورت ہے۔سید پرویز مشرف اپنے دوراقتدار میں ثابت کر چکے ہیں کہ وہ ایک بہترین لیڈر ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…