جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینکر پرسن مطیع اللہ جان کی پیر تک مہلت کی درخواست منظور کر لی

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن مطیع اللہ جان کی پیر تک مہلت کی درخواست منظور کر لی ہے جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیر صدیقی کی عدالت میں نجی ٹی وی کے اینکر پرسن مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی نوائے وقت کی گروپ مالکن اور مطیع اللہ جان ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوئے، دوران سماعت مطیع اللہ جان کا پورا پروگرام دکھایا گیا۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پروگرام میں متعدد بار ثاقب نثار، ثاقب، شوکت صدیقی کہہ کر پکارا گیا ہے ،چار سال پہلے بھی عدلیہ مخالف پروگرام کیا گیا کیوں نہ آپکا لائسنس منسوخ کیا جائے، عدالت نے مذید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ایک اینکر کہے گا کہ یہ قانونی یا غیر قانونی ہے، آپ لوگ بلیک میل کرتے ہیں کیا آپ قانون سے بالاتر ہیں؟ کل پرسوں جیو نے تماشا لگایا ہوا تھا اس کو بھی نوٹس کرتے ہیں، عدالت نے پیمراء4 سے جیو کے پروگرام رپورٹ کارڈ کا ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر لیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا اینکر کی ٹریننگ دیکھی جاتی ہے، سوسائٹی میں فساد نہ ڈالیں،جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا آپ پوری عدلیہ کو بدنام کر رہے ہیں،اس معاملے کو ختم نہیں کرونگا،ہمارے گھر میں نوائے وقت اخبار ایک مقدس اخبار سمجھا جاتا ہے، پروگرام میں سپریم کورٹ کے نوٹس کو کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے پیش کیا گیا، ایک وکیل رہنما نے عدالت میں کہا کہ یہ اپنے گھر میں بھی ادب نہیں کرتے ہیں اپنے باپ کی بھی عزت نہیں کرتے، جس پر مطیع اللہ جان نے جواب دیا کہ انہیں کہیں اپنی حدود میں رہیں، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پھر ریمارکس دیے کہ آپ نے اتنا پڑا پروگرام بغیر تحقیق کے کر دیا، ہم وضاحت نہیں دے سکتے اس کا مطلب یہ نہیں کہ قتل کرنے کا لائسنس مل گیا،ہمارے چیف جسٹس کا نام لینے کا سلیقہ اپ کو نہیں ہے۔

سول جج کے حکم کو غیر قانونی کہنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا، میں نے23 سال بے داغ وکالت کی،سی ای او وقت ٹی وی رمیزہ نظامی نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں نوٹس نہ کریں ، عدالت نے حکم دیا کہ آپ لوگ فیصلہ کریں کہ آپ نے معافی مانگنی ہے یا کیس لڑیں گے، جس پر مطیع اللہ جان پیر تک مہلت کی استدعا کی عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…