منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایٹمی دھماکوں کاکریڈٹ لینے والے نواز شریف کا پول کھل گیا۔۔ دھماکے نواز شریف نہیں بلکہ کس کے مشورے پر ہوئے، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)1998میں نواز شریف نے کیا ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ خود کیا یا کسی صحافی کے کہنے پر کیا تھا، سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف نظامی سب کچھ سامنے لے آئے۔ تفصیلات کے مطابق 1998میں ایٹمی دھماکوں کے فیصلے کے حوالے سے سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف نظامی کا کہنا تھا کہ1998میں نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ

خود کیا یا کسی صحافی نے انہیں ایسا کرنے کا مشورہ دیا تھا؟واضح رہے کہ عوامی و سیاسی حلقوں کے ساتھ صحافتی حلقوں میں بھی اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور اس حوالے سے سینئر صحافی عارف نظامی نے پہلی بار اصل صورتحال سے پردہ اٹھایا ہے۔ عارف نظامی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 1998میں اس وقت صحافیوں کی ایک میٹنگ بلوائی گئی جس میں کئی صحافیوں نے نواز شریف کو مشورہ دیا کہ آپ قطعاََ ایٹمی دھماکے نہ کریں۔ ان صحافیوں میں سے کچھ صحافی زندہ ہیں اور کچھ وفات پا چکے ہیں۔ ان صحافیوں میں میرے مرحوم چچا اور پاکستان کے معتبر اور سینئر ترین صحافی مجید نظامی مرحوم نے نواز شریف کو کہا تھا کہ ’’میاں نواز شریف اگر اب آپ نے دھماکہ نہ کیا توآپ کا دھماکہ ہو جائے گا‘‘۔ اس کے بعد جب دھماکے ہو گئے تو مجید نظامی نے کئی بار کہا کہ یہ ایٹمی دھماکے میرے مشورے پر ہوئے تھے ۔ ان کے بڑے اچھے دوست سرتاج عزیز نے ایک کتاب لکھی لیکن اس بات کا اس کتاب میں تذکرہ نہیں کیا جس پر میرے چچا مرحوم مجید نظامی ناراض ہو گئے کہ ایٹمی دھماکے کا اصل خالق تو میں ہوں۔ نواز شریف بھی اس بات پر ناراض ہوئے کہ دھماکہ کرنے والا میں ہوں اور کریڈٹ دوسرے لوگ لے رہے ہیں۔عارف نظامی نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ دن قبل میری مشاہد حسین سید صاحب سے ملاقات ہوئی

اورمیں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ دھماکہ کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا میاں نواز شریف نے تو صرف ایسے ہی میٹنگ بلوا لی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…