جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی نیوز چینلز کو جعلی اور جھوٹی خبریں چلانا مہنگا پڑگیا،صحافی بھی برس پڑے

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی نیوز چینلز کو جعلی اور جھوٹی خبریں چلانا مہنگا پڑگیا ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے میں کئی چینلز نے ایک شخص کی ویڈیو سوشل میڈیا سے اٹھائی اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے نام سے شیئر کردی، اماراتی حکام نے حرکت کو ناپسندیدہ اور سوچی سمجھی چال قرار دے دیا، نامور بھارتی صحافی بھی اپنے چینلز پر برس پڑے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق آٹھ گھنٹوں تک یہ ویڈیو بڑے نیوز چینلز کے سوشل میڈیا اکاونٹ پر چلتی رہی، کسی کو خیال تک نہ آیا کہ اتنا ہی پتہ کرلے کہ یہ بندہ کون ہے، درحقیقت اس شخص کا نام سلطان سعود قسامی ہے لیکن بھارتی نیوز چینلز اس شخص کو محمد بن زائد النہیان سمجھ کر سر دھنتے رہے اور اپنی جنتا کو بے وقوف بناتے رہے، جب دماغ کی بتی جلی تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس حرکت کو ایک ناپسندیدہ اور سوچی سمجھی چال قرار دیا جس کا مقصد جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا، سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔بھارتی صحافی شیکھر گپتا نے بھی بھارتی میڈیا کی حرکت کو شرمنا ک قرار دیا، بھارتی میڈیا میں جعلی اور نفرت انگیز خبروں کے خلاف ٹوئٹ کرنا انڈیا ٹوڈے کی خاتون صحافی کو مہنگا پڑگیا،چینل نے انگوشو کنتا کو نوکری سے ہی فارغ کردیا۔خاتون صحافی نے ٹوئٹ کیا تھا کہ نفرت انگیز اور جعلی خبروں کو پھیلانے والے اینکرز، ایڈیٹرز، رپورٹرز اور رائٹرز، یا انھیں ملازمت دینے والے افراد پر عدالت میں مقدمات چلانے چاہئے،کیونکہ یہ لوگ نفرت انگیز باتوں سے فائدے حاصل اٹھاتے ہیں، سیکیولر سیاستدانوں اور صنعتکاروں کو ایسے لوگوں کا لازماً سماجی بائیکاٹ کرنا چاہیے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…