منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

امراض قلب کا خطرہ کم کرنے والی مزیدار غذا

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) امراض قلب دنیا بھر میں سب سے عام جان لیوا بیماریوں میں سے ایک ہے، مگر روزمرہ کی زندگی میں ایک غذا کو کھانا عادت بنا کر اس سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دہی کھانا عادت بناکر خون کی شریانوں سے جڑے امراض بشمول امراض قلب اور بلڈ پریشر کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

دہی کھانا پسند نہیں کرتے؟ تحقیق کے مطابق اس سے پہلے کی طبی معالعہ جات میں دودھ سے بنی مصنوعات کو کھانے سے خون کی شریانوں کی صحت پر مثبت اثرات ثابت ہوچکے ہیں اور صرف دہی ہی امراض قلب کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ایسے اہم شواہد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق دہی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور اسے غذا کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہئے۔ تحقیق کے دوران محققین نے 30 سے 55 سال کی عمر کی 55 ہزار سے زائد ایسی خواتین کا جائزہ لیا گیا جو کہ ہائی بلڈ پریشر کی مریض تھیں جبکہ 40 سے 75 سال کی عمر کے اٹھارہ ہزار مرد بھی اس تحقیق کا حصہ تھے۔ ان تمام افراد سے غذائی عادات کے حوالے سے 61 سوالات پوچھے گئے جبکہ ان کے طبی ریکارڈ، فالج اور دیگر پہلوﺅں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ محققین نے دریافت کیا کہ دہی کا زیادہ استعمال خواتین میں تیس فیصد جبکہ مردوں میں 19 فیصد تک خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کردیتا ہے۔ سست رفتاری سے چلنا امراض قلب کا عندیہ اسی طرح یہ بات بھی سامنے آئی کہ دونوں گروپس میں جو افراد ایک ہفتے میں دو بار دہی کھاتے تھے، ان میں امراض قلب یا فالج کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ دہی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند غذا ہے جو فشار خون سمیت دیگر خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج جریدے امریکن جرنل آف ہائپر ٹینشن میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…