جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں سترہ سال بعدامریکہ نے دوبارہ انتہائی خطرناک ہتھیار کا استعمال شروع کر دیا

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں امریکی فضائیہ نے سترہ سال بعد سب سے تباہ کن بمبار طیاروں بی فٹی ٹو کا دوبارہ استعمال شروع کر دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق ان طیاروں کے ذریعے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بدخشاں صوبے میں تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بی فٹی ٹو بمبار طیاروں کو افغانستان میں اس سے قبل سنہ 2001 میں استعمال کیا گیا تھا جب امریکی فوج کا مقصود طالبان کی حکومت کو ختم کرنا اور پاکستان کی سرحد کے قریب تورہ بورہ کے پہاڑوں میں القاعدہ کے رہمنا اسما بن لادن کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنا تھا۔ بی فٹی ٹو بمبار طیاروں کو دوبارہ استعمال کرنے کے مقصد کے بارے میں امریکی فضائیہ کی طرف سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں جسے نشانہ بنایا گیا ہے وہاں پر طالبان کے ٹھکانوں کے علاوہ چین کے صوبے سنکجیانگ سے تعلق رکھنے والے اوغر شدت پسند بھی سرگرم ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے اس دور افتادہ اور انتہائی کم آبادی والے علاقے میں ترکمانستان اسلامی موومنٹ کے مراکز اور تریبت گاہیں بھی قائم ہیں۔ یاد رہے کہ اس علاقے میں امریکہ نے پوری قوت سے بمباری ان خبروں کیبعد کی ہے جن کے مطابق چین اس علاقے میں ترکمانستان اسلامی موومنٹ اور اوغر شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کے لیے افغانستان کی حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق افغانستان میں دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی باون طیاروں کا دوبارہ استعمال افغانستان میں امریکی حکومت کی نئی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت طالبان کو کمزور سے کمزور تر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…