جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغان مسئلہ کیسے حل کرنا ہے؟ طالبان کا امریکی عوام کے نام کھلا خط

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان نے امریکی کانگریس کے ارکان اور عوام کے نام کھلے خط میں مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دے دی ہے، ایک نجی ٹی وی چینل نے برطانوی نشریاتی ادارے کے حوالے سے بتایا کہ افغان طالبان نے امریکی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کرتے ہوئے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی امریکی عوام اور کانگریس ارکان کے نام ایک کھلے خط میں پیشکش کی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی عوام و کانگریس ارکان کو خط میں مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ اس بات کا اعتراف کریں گے کہ آپ کی قیادت نے 17 سال قبل ہمارے ملک پر حملہ کیا جو نہ صرف ہماری ملکی خود مختاری پر حملہ تھا بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی تھی۔ انہوں نے امریکی عوام سے کہا کہ آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے صورت حال پر غور کریں کہ آپ کی حکومت ہمارے ملک میں جنگ جاری رکھنے کی جو تین بتاتی ہے اس میں غیرملکی شدت پسندوں کا خاتمہ، کابل میں ایک مستحکم حکومت کا قیام اور ملک سے منشیات کی پیداوار کو ختم کرنا شامل ہے مگر امریکہ کی جانب سے جاری رہنے والی سترہ سالوں سے اس جنگ کے شروع سے لے کر اب تک منشیات کی پیداوار میں مزید 87 فیصد اضافہ ہی ہوا ہے اس کے علاوہ اس جنگ میں امریکہ نے نہ صرف 3 ہزار 546 فوجی جانوں کا نقصان اٹھایا بلکہ امریکی عوام کے دیے گئے ٹیکسوں کے کھربوں ڈالر اس جنگ میں جھونک دیے گئے، اس کے علاوہ ہزاروں بے گناہ افغان شہری بھی ہلاک ہو گئے اس کے باوجود طالبان ایک ایک طاقت بن کر ابھرے اور یہ جنگ موجود دور میں امریکہ کی سب سے طویل اور مہنگی جنگ بن گئی، امریکہ افغانستان میں تنہا رہ گیا اور اس کے اتحادی بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ امریکی عوام کے نام لکھے گئے اس خط میں مزید کہا گیا کہ اگر امریکہ اب بھی کابل میں کرپٹ اور غیر مؤثر حکومت کی پشت پناہی کرنے اور ہٹ دھرمی سے جنگ جاری رکھنے کی خواہش رکھتا ہے

تو پورے خطے سمیت امریکہ کے استحکام کے لیے مضر اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے امریکہ کے عوام اور کانگریس ارکان اپنی حکومت کو اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کا کہیں، خط میں کہا گیا کہ مذاکرات کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا ہے مگر اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنا قبضہ ختم کرے اور افغان عوام کی خواہش کے مطابق طالبان کا افغانستان پر حکومت کرنے کا حق تسلیم کرے، خط میں مزید کہا گیا کہ امریکی حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے امریکہ بین الاقوامی سطح پر تنہا ہوتا جا رہا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…