منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نہ ڈیزائن، نہ زمین اور نہ ہی منظوری،پاکستان کی ترقی کا ضامن میگا پراجیکٹ ہوائی نکلا، شہباز شریف کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے زیر اہتمام منعقدہ 2روزہ ’’پنجاب ہیومن ڈویلپمنت فورم 2018‘‘کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیپسٹی کے ایشوز صرف پنجاب کے نہیں بلکہ پورے پاکستان میں موجود ہیں اور انہیں حل کئے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ فلاح عامہ کے منصوبوں کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے کوالٹی

ہیومن ریسورس ضروری ہے، ہمیں اپنی غلطیوں اور خامیوں کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہے کیونکہ غلطیوں سے سبق حاصل کر کے آگے بڑھنے سے ہی مثبت نتائج ملتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ماضی کی حکومتیں گزشتہ 70سالوں سے ’’سب اچھا‘‘کا راگ الاپتی رہی ہیں اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور دعوے کئے گئے کہ یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ 2008میں ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے بھاشا ڈیم کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ کرعوام کو دھوکہ دیا حالانکہ اس منصوبے کیلئے نہ تو ڈیزائن تھا ، نہ ہی زمین تھی ، نہ ہی منظوری لی گئی اور نہ ہی وسائل کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میں اپنے خون کے ساتھ یہ لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مانگنے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے۔ ہمیں اپنے وسائل خود پیدا کرنا ہونگے، مانگے تانگے کی زندگی سے ترقی نہیں ہوتی۔ پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا کہ ہم کسی کے آگے ہاتھ پھیلائیں، ملک انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہر بچے کو با اختیار بنانے کیلئے ہر ماں کو اس کا حق دینے کیلئے، ہر باپ کو روزگار کی فراہمی کیلئے اور ہر مریض کو معیاری ادویات کیلئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا اور اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ تمام لوگ با اختیار نہیں ہو جاتے۔واضح رہے کہ پرویز مشرف کے دورمیں لوڈشیڈنگ شروع ہوتے ہی خوفناک صورتحال اختیارکر گئی تھی جبکہ اس وقت کالا باغ ڈیم جیسے میگا منصوبے کی اشد ضرورت محسوس کی گئی۔ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اس کے متبادل دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ سامنے لایا گیا تھا جس کا افتتاح سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…