اسلام آباد (نیوزڈیسک ) مایوسی اور بے چینی چھوت کے مرض کی طرح ہوتی ہے جو والدین اور بڑوں سے بچوں میں منتقل ہوسکتی ہے اور اس کا تعلق جینیات (جینیٹکس) سے بھی بڑھ کرہوتا ہے۔
کنگز کالج لندن میں نفسیات ، نفسیاتی معالجے اور نیوروسائنسز کے انسٹی ٹیوٹ نے ایک سروے کرایا جس میں شادی شدہ ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو یا تو دو بھائی تھے یا دو بہنیں اوران کی تربیت ایک ساتھ ہوئی تاکہ والدین کی تربیت، مزاج اور جینیات کا تعلق پہلے ہی واضح ہو، سروے میں ایک ہزارخاندانوں سے سوالات کئے گئے اور نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پریشان والدین کے بچوں میں بھی پریشانی کے واضح آثار ہوتے ہیں جو چھوٹی عمر میں بچوں کی ذہنی اور دماغی نشوونما پر شدید اثر انداز ہوتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ نے اس مطالعے کو ایک اہم سنگِ میل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس انداز سے والدین بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہ ان کے بچوں کے رویے پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جو والدین تناو¿ اور پریشانی کا شکار ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ماہرین نفسیات سے رجوع کریں تاکہ ان کے بچے ذہنی دباو¿ سے محفوظ رہ سکیں۔
مایوسی والدین سے بچوں میں منتقل
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کا خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ، سعودی عرب کا ردعمل آگیا
-
ایران کا ابوظبی پر حملہ،یو اے ای نے بھی بڑا اعلان کر دیا
-
امانت خان شیرازی
-
سپریم کورٹ کا این اے 251 کا فیصلہ، خوشحال خان خٹک کامیاب قرار
-
پاک فضائیہ کی بمباری , افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ کی ہلاکت کی غیر مصدقہ اطلاعات
-
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر چین کا ردعمل بھی آگیا
-
دہشت گردی کا خطرہ، تھریٹ الرٹ جاری
-
1 کروڑ روپے تک کا قرضہ : اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلیے بڑی خوشخبری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر حیران کن اضافہ
-
ماہانہ 70 ہزار روپے کمانے کا موقع ! پاکستانی نوجوانوں کے لئے بڑی خوشخبری
-
پنجاب اسمبلی کے ملازم کی ایم پی اے کے کمرے سے لاش برآمد
-
ٹی20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل تک رسائی کیلیے پاکستانی ٹیم کو کیا کرنا ہوگا؟
-
ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا پہلا بیان آ گیا
-
پاکستانی سفارتخانے نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری دیں



















































