بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

بغیر تحقیق کئے خبریں شائع کرنا معمول بن چکا ،بعض لوگوں نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ،رابی پیرزادہ

datetime 10  فروری‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی) گلوکارہ و اداکارہ رابی پیر زادہ نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے اور بغیر تحقیق کئے خبریں شائع کرنا معمول بن چکا ہے ۔انہوںنے اپنے حوالے سے مقامی اخبار میں شائع ہونے والی خبر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ میں نقیب اللہ محسود ،زینب اور دیگر قتل ہونے والوں کے سوگ میں اپنی سالگرہ نہیں منائوں گی ۔

اور میں نے پہلی مرتبہ اپنی زندگی میں سالگرہ نہیں منائی مگر اس کے باوجود ایک مقامی اخبار نے میری سالگرہ منانے کی جھوٹی خبر شائع کرکے اصل میں صحافت کو داغ دارکیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کچھ باتوں کے کوئی اصول اور ضابطے ہوتے ہیں میںنے مرنے والوں کے خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی اور اپنے دکھ کے اظہار میں سالگرہ منسوخ کردی تھی مگر مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں بعض ایسی کالی بھیڑیں ہیں جو دکھ درد کے احساس سے عاری ہیں جن کو کسی کے مرنے سے کوئی دکھ اور افسوس نہیں ہوتا۔رابی پیرزادہ نے کہا کہ میرے بارے میں یہ بے بنیاد اور گمراہ کن خبر شائع کی گئی کہ میںنے اپنی سالگرہ منائی ہے اس میں رتی بھر صداقت نہیں ۔انہوں نے کہا کہ صحافت ملک کا چوتھا ستون ہے اور میڈیا مالکا ن کو ایسے منفی سوچ رکھنے والے عناصر پر نظر رکھنی چاہیے جو کسی کی بھی عزت اچھالنے میں دریغ نہیں کرتے۔ انہوںنے کہا کہ جس مقامی اخبار میں میری سالگرہ منانے کی خبر شائع ہوئی اس کے چیف ایڈیٹر اور ایڈیٹر انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں اور انہوںنے ہمیشہ مظلوم کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائی مگر ان کے ادارے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ان کی ساکھ کو خراب کرنے میں تلے ہوئے ہیں ۔ایسے لوگوں کو صحافت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…