ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

جعلی ڈگریوں کی خبر سچ ثابت ہوئی تو کوئی نہیں بچے گا ٗسپریم کورٹ

datetime 7  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایگزیکٹ از خود نوٹس کیس میں کہا ہے کہ جعلی ڈگریوں کی خبر سچ ثابت ہوئی تو کوئی نہیں بچے گا۔ بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی جس میں ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اور اینکر عامر لیاقت عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایگزیکٹ کیس کی تفصیلات پوچھتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے

ایگزیکٹ کے دفاتر کو سیل کرکے دستاویزات قبضے میں لی ہیں ٗیہ معاملہ دوبارہ اجاگر ہورہا ہے جس سے ملک کی بدنامی ہورہی ہے، پاکستان کی بدنامی پر ازخود نوٹس لینا ہماری غلطی ہے، آج کل ہم اپنی غلطیوں کا تعین کررہے ہیں، ہمیں تمام ملزمان کے نام لکھوا دیں، اگر جعلی ڈگریوں کی خبر میں صداقت ہے تو کوئی نہیں بچ پائے گا لیکن اگر یہ واقعہ نہیں ہوا تو جو مہم چلارہے ہیں ان کے خلاف ایکشن ہوگا۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کیس کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلے 15 مئی 2015 کو ایگزیکٹ سے متعلق خبر شائع ہوئی، ایگزیکٹ کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے، اس ادارے کے 10 کاروباری یونٹ ہیں، ایک بزنس یونٹ آن لائن تعلیم کا ہے، کمپنی کا 70 فیصد ریونیو تعلیم کے شعبے سے آتا ہے، امریکا میں 331 یونی ورسٹیز کی ویب سائٹ بنائی گئیں جن پر مختلف افراد کے فوٹو لگائے گئے۔بشیر میمن نے بتایا کہ ویب سائٹس پر امریکہ کا نمبر دیا گیا لیکن فون پاکستان میں موجود شخص سنتا تھا، ڈگری کے خواہشمند کمپنی کے امریکا کے اکاؤنٹ میں رقم ڈالتے تھے اور امریکا سے وہ پیسے پاکستان منتقل ہو جاتے تھے، یہاں سے دبئی کے راستے امریکا ڈگری بھیجی جاتی، ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے خلاف چار مقدمات درج کیے، دو میں اسلام آباد سے

ضمانت ہو گئی اور ایک جج پر پیسے لینے کا الزام بھی لگا، اس کیس میں کراچی کی ماتحت عدالت میں بھی ٹرائل چل رہا ہے، پشاور میں جعلی ڈگری والے پروفیسر پکڑے گئے، پشاور میں ایک جعلی ڈگری کا معاملہ ہے مگر وہ کیس چلا ہی نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق عامر لیاقت نے عدالت میں بیان دیا کہ میری ڈگری نہ جعلی ہے نہ ایگزیکٹ سے لی ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مجھے اچھی خبر ملنی چاہیے کہ عامر لیاقت نے ایگزیکٹ

سے ڈگری نہیں لی، عامر لیاقت نے ایگزیکٹ سے ڈگری لی ہے تو اسے چھوڑوں گا نہیں۔چیف جسٹس نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا ڈیکورم ہے، یہ آپ کا ٹی وی پروگرام نہیں، پاکستان کی عزت بچانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے، اس کیس میں تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیں گے۔عدالت عظمیٰ نے ایگزیکٹ کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ، ماتحت عدالتوں کے رجسٹرار اور تمام ملزمان کو جمعہ کو طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…