جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سنکیانگ میں ایغورمسلمانوں پرچینی فوج کے مبینہ مظالم،برطانوی حکومت نے سنگین دعوے کردیئے، بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں رہنے والے مسلمانوں کی جانب وہاں کی فوج کے رویے پر برطانیہ کی حکومت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہاکہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں متعدد افراد کو بغیر کسی مقدمے کے حراست میں لیے جانے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔

2017 میں اپریل کے شروع میں بھی سنکیانگ کی صوبائی حکومت نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مہم کے تحت اویغور مسلمانوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ان میں لمبی داڑھی رکھنے، گھر سے باہر نقاب پہننے اور سرکاری ٹی وی چینل دیکھنے جیسی پابندیاں شامل ہیں۔دور سے دیکھنے پر مغربی چین کا صوبہ سنکیانگ عراق کے دارالحکومت بغداد جیسا لگتا ہے۔ یہاں رہنے والے مسلمانوں پر فوج کی کڑی نظر رہتی ہے۔اس علاقے میں اویغور مسلمان آباد ہیں جن کی زندگی بڑی حد تک ڈر کے سائے میں گزر رہی ہے۔ سرکاری جاسوس ان کی زندگیوں میں جھانکتے رہتے ہیں۔ اگر ان سے بات کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ کھل کر جواب بھی نہیں دیتے۔یہاں کے باسیوں سے جبراً ڈی این اے کے نمونے بھی لیے جا رہے ہیں۔ ان کے موبائل کھنگالے جاتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے کہ کہیں وہ اشتعال انگیز میسیج تو نہیں شیئر کر رہے۔ اگر کسی پر ملک کے ساتھ غداری کا معمولی سا بھی شک ہو تو انھیں ایسی جیلوں میں بھیج دیا جاتا ہے جن کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں معلوم۔غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متعدد اویغور مسلمانوں کو بغیر مقدمات کے جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہاکہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں متعدد افراد کو بغیر کسی مقدمے کے حراست میں لیے جانے کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ 2017 میں اپریل کے شروع میں بھی سنکیانگ کی صوبائی حکومت نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مہم کے تحت اویغور مسلمانوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…