جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں 40 ہزار فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

datetime 4  فروری‬‮  2018 |

سری نگر(سی پی پی ) بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں 40 ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں40 ہزار سے زائد مزید نیم فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ یہ اہلکار آنے والے نام نہاد پنچایت انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے نام پر تعینات کیے جائیں گے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ نوجوانوں کی حالیہ شہادت پر ضلع شوپیاں میں ہفتے کو مسلسل10ویں روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔

دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی۔ بھارتی فوجیوں نے24 جنوری کو شوپیاں کے علاقے چائی گنڈ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران 3 نوجوانوں فردوس احمد، سمیر احمد اور شاکر میر کو شہید کردیا تھا۔ بھارتی پولیس کی طرف سے گھر گھر تلاشی کے دوران متعدد نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف ضلع بڈگام کے علاقے سوئیہ بگ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔بھارتی فورسز نے علاقے میں گھر گھر تلاشی کے دوران قیمتی گھریلو اشیا کی توڑپھوڑ کی اورکھڑکیوں کے شیشے توڑدیے۔ ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں حملے میں2بھارتی اہلکار زخمی ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ضلع کپواڑہ کے علاقے نوگام میں ایک نہر میں زہریلا کیمیکل ڈالدیا جس کے باعث ہزاروں ٹراؤٹ مچھلیاں ہلاک ہو گئیں۔ خبر پھیلنے کے بعدعلاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا اور انتظامیہ کونہر کا پانی روکنا پڑا۔ادھر سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے شوپیاں چلو مارچ کو طاقت کے بل پر ناکام بنانے کے کٹھ پتلی انتظامیہ کے ناروا اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ا?مرانہ اور ظالمانہ اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کو زیر کرنے کا بھارتی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت نے اعتراف کیاہے کہ گزشتہ2برس کے دوران بھارتی فورسزکی پیلٹ فائرنگ سے 18شہری جاں بحق ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…