لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت نے بچوں کو جنسی ہراساں ہونے سے بچنے کی تعلیم کے حوالے سے نصاب میں سبق شامل کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے حکم پر کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اس حوالے سے علماء کی بھی رائے طلب کی گئی اور متحدہ علما بورڈ کی میٹنگ میں بھی مذکورہ مسودہ رکھا گیا،اس تعلیمی سلسلے کو اگلی جماعتوں کے بچوں کیلئے بھی بڑھایا جائے گا،
قصور میں ننھی زینب اور دیگر بچیوں کے قتل کے واقعات نے قوم کا ضمیر جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے ، ایسے واقعات ملکی بد نامی کا باعث بنتے ہیں ۔ اس بات کا اعلان صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء نے صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور زعیم حسین قادری ،علما کرام کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ زینب اور دیگر بچیوں کے کا قتل کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں اور ایسے واقعات ملکی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔قصور میں واقعہ کا ملزم نہ صرف مقتول زینب کے نماز جنازہ اور دیگر مقامات پر بھی لوگوں کے ساتھ جاتا رہا بلکہ اسی واقعے کے خلاف احتجاج اور پتھراؤ بھی کرتا رہا۔جب مجرم کو ڈی ان اے پروفائل کے لئے طلب کیا تو وہ غائب ہو گیا اور دل میں تکلیف کا ڈرامہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈی این اے نہ دینے کی حرکتوں کے بعد سکیورٹی ایجنسیز کو اس کے پیچھے لگا دیا گیا اور اسے گرفتار کرنے کے لیے دیگر 6 افراد سمیت طلب کیا تاکہ اسے شک نہ ہو۔مجرم کو صرف ڈی این اے سے نہیں بلکہ دیگر شواہد سے بھی پکڑا گیا جبکہ تفتیش کے دوران ملزم نے پہلے واقعے سے آخری واقعے تک تمام تفصیلات بتائیں ہیں۔انہوں نے قصور واقعے سے متعلق کردار ادا کرنے پر عدلیہ، آرمی چیف اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ چھوٹے بچوں کو جنسی حراساں ہونے سے بچنے کے لیے بصاب میں ایک سبق شامل کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے وزیراعلی شہباز شریف نے اس حوالے سے سبق کو نصاب میں شامل کرنیکا حکم دیا
جس کے بعد ایک کمیٹی قائم کی گئی جس کی منظوری کے بعد مسودہ وزیر اعلی کو بھجوایا گیا ہے۔ اس حوالے سے علما کی بھی رائے طلب کی گئی اور متحدہ علما بورڈ کی میٹنگ میں بھی مذکورہ مسودہ رکھا گیا۔اس تعلیمی سلسلے کو اگلی جماعتوں کے بچوں کے لئے بھی بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قصور واقعہ کی طرح کوہاٹ میں ننھی اسما اور طالبہ عاصمہ رانی کے قتل پر بھی اتنے ہی افسردہ اور دکھی ہیں ۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کوہاٹ میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کو سیاسی جماعت کے ضلعی عہدیدار کے بھتیجے نے بربریت کا نشانہ بنایا
لیکن اس سیاسی جماعت کے سربراہ کو اتنی بھی شرم نہیں آئی کہ ضلعی عہدایدار کے خلاف کوئی کارروائی کرتا یا اس پولیس سے ہی پوچھ لیتا جس کے وہ گن گاتا پھرتا ہے کہ ملزم کیسے ملک سے فرار ہو گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر زعیم حسین قادری نے کہا کہ کتابچہ کی تیاری میں تمام علما کرام کی موجودگی میں عرق ریزی سے کام کیاگیا،اب تک 53ہزار مساجد میں علما کرام نے خطبات میں بات کی ہے،سیکرٹری سکولز تمام مساجد میں کتابچہ فراہم کریں گے ،ہر جمعہ میں بچوں کی تعلیم پربات کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 7فروری کو بچوں کے تحفظ کا دن منایاجائے گااور ہر شعبہ اس میں اپنا کرداراداکرے۔



















































