جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

خطرناک ڈرونز کو گرانے کیلئے شیلڈ کمپنی نے ’’ گن ‘‘ تیار کرلی

datetime 2  فروری‬‮  2018 |

لندن (آن لائن) دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ڈرونز بنائے جارہے ہیں جو کئی مسائل کی وجہ بن رہے ہیں تاہم اب ایک بہت مثر اور جدید دستی گن سے ان ڈرون کو جام کرکے گرانا بہت آسان ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈرونز شوقیہ بھی استعمال ہورہے ہیں اور اب ان سے جان چھڑانے والی ٹیکنالوجی پر بھی کام جاری ہے۔ اس کے علاج کے لیے ڈرون شیلڈ کمپنی نے ایک ڈرون گن بنائی ہے۔ یہ ڈرون گن کئی طرح کی فریکوئنسی بلاک کرکے کئی اقسام کے

ڈرونز کو گراسکتی ہے۔اگرچہ اب فوٹو گرافی اور پیزا پہنچانے کیلیے ڈرون عام طور پر استعمال ہورہے ہیں لیکن کئی مقامات پر یہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان میں نو فلائی زون، حساس ادارے، ایئرپورٹ اور دیگر حکومتی تنصیبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جیلوں اور دیگر مقامات پر ڈرون منشیات اور ممنوعہ اشیا بھی اسمگل کرنے کیلیے استعمال کیے جارہے ہیں۔اس ضمن میں پہلی ڈرون گن سال 2016 میں بنائی گئی تھی جسے اب مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ اس کی خاص صلاحیت یہ ہے کہ یہ دو کلومیٹر کی دوری تک ڈرون کو ملنے والے سگنلز میں رخنہ ڈال دیتی ہے جس سے گارڈ کو ہمیشہ گن اٹھائے چوکنا رہنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس طرح یہ گن ایک طرح کا غیرمرئی بلبلہ بناتی ہے تاکہ ڈرون کو ناکارہ کرکے گرایا جاسکے۔اس گن میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ آپ ڈرون کنٹرول کرکے اسے دوبارہ وہیں دھکیل سکتے ہیں جہاں سے یہ اڑا تھا، یعنی آپ دوسرے کے ڈرون کے پائلٹ بن سکتے ہیں۔ دوسرے آپشن میں ڈرون کے جی پی ایس سگنل کو متاثر کرکے اسے فوری طور پر لینڈ کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں ڈرون کو تفتیش کیلیے گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔یہ ڈرون گن بہت ہلکی پھلکی ہے اور 433 میگا ہرٹز سے لے کر 5.8 گیگا ہرٹز تک کے بینڈ استعمال کرنے والے ڈرون کو ناکارہ بناسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…