ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عاصمہ کو ملزم نے پہلے بھی قتل کی دھمکیاں دی تھیں، بہن صفیہ

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

کوہاٹ( آن لائن) رشتے سے انکار پر قتل ہونے والی طالبہ عاصمہ کی بہن کا کہنا ہے کہ ملزم مجاہد نے پہلے بھی عاصمہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔کوہاٹ میں رشتہ سے انکارپر بے دردی سے قتل ہونے والی عاصمہ کی بہن صفیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ روزانہ پاکستان میں قتل کی وارداتیں ہورہی ہیں جس کے خلاف حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ قصور میں زینب ، مردان میں اسما اور کراچی میں نقیب اللہ کے بعد میری بہن کو بھی ماردیا گیا،

میری بہن نے نزاعی بیان دیا ہے کہ مجاہد نے اسے قتل کیا ہے، ملزم نے پہلے بھی مجھے فون کرکے بہن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔صفیہ نے کہا کہ مجاہد پہلے سے شادی شدہ تھا، اگر رشتہ نہیں دیا تو کیا قتل کرنا ضروری تھا، ضروری نہیں کہ جورشتہ مانگے اس سے شادی کرادی جائے، پولیس غریب آدمی کوپکڑتی ہے مالدارکو ہاتھ نہیں لگاتی، عمران خان کی حکومت اورتمام پاکستانی عوام سے مدد کی اپیل کرتی ہوں۔بہن صفیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم غریب ہیں بڑی مشکل سے بہن کو تعلیم دلوا رہے تھے، بیرون ملک مزدوری کر رہی ہوں اور بہن کی تعلیم کا خرچہ برداشت کررہی تھی، عاصمہ نے مجھے کہا تھا کہ باجی جب آپ وطن واپس آئیں گی تو میں ڈاکٹر بن چکی ہوں گی، لیکن ڈاکٹربننے سے پہلے ظالموں نے میری پھول جیسی بہن کوقتل کیا اوراگر قاتلوں کوسزا نہ ہوئی تو تمام لوگ گنہگارہوں گے ، ابھی تک ہماری کسی نے مدد نہیں کی۔واضح رہے کہ میڈیکل کی طالبہ عاصمہ بی بی کو تحریک انصاف کے ضلعی صدرکے بھتیجے مجاہد آفریدی نے شادی سے انکار پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا اوربعد ازاں وہ سعودی عرب فرارہوگیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔دریں اثناء کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل کے خلاف صوبے بھر کے ڈاکٹرز بھی سراپا احتجاج بن گئے۔

مختلف اسپتالوں میں ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے۔ڈاکٹروں کی صوبائی تنظیم نے 72 گھنٹوں کے اندر قاتل گرفتار نہ ہونے کی صورت میں صوبے بھر کے اسپتال بند کرنے کا اعلان کردیا۔خیبر پختونخوا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتل کو بااثر لوگوں نے فرار کروایا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ڈاکٹرزایسوسی ایشن نے حکومت کو 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ عاصمہ رانی کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو صوبے بھر کے اسپتال بند کردیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…