بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

اپنے بچوں کو استعمال شدہ کھلونے کبھی خرید کر نہ دیں کیونکہ یہ۔۔۔۔تحقیق میں خوفناک انکشافات

datetime 18  اکتوبر‬‮  2018 |

لندن(آن لائن)ایک تازہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ استعمال شدہ کھلونوں میں سے متعدد ایسے ہیں جن کے دوبارہ استعمال سے بچوں کی صحت کو خطرہ ہو سکتا ہے کیوں کہ یہ کھلونے صحت کی حفاظت سے متعلق رہنما اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔اس تحقیق میں سائنس دانوں نے دو سو کھلونوں کا تجربہ کیا۔ یہ کھلونے انھوں نے برطانیہ کی چند دکانوں اور نرسریوں سے جمع کیے تھے۔ ان میں انھوں نے نو نقصان دہ عناصر کی موجودگی کا ٹیسٹ کیا۔

20 کھلونے ایسے تھے جن میں سبھی نو عناصر موجود پائے گئے۔ تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کھلونوں سے خطرہ کتنا زیادہ یا کم ہے۔تحقیق کار ڈاکٹر اینڈڑو ٹرنر نے بتایا کہ 70 اور 80 کی دہائی کے لیگو برکس اس معاملے میں بہت نقصان دہ نکلے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس دور میں حفاظتی ہدایات کی بنیاد پر کھلونوں کو ٹیسٹ نہیں کیا جاتا تھا۔ اور اب ہم انھیں استعمال کر رہے ہیں۔ڈاکٹر ٹرنر اور ان کی ٹیم نے ان کھلونوں کا تجزیہ ایکس رے فلورینس ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا۔ تحقیق میں ایسے کھلونوں کو شامل کیا گیا جنھیں بچے آسانی سے منہ میں چباتے ہیں۔انھوں نے پایا کہ ان میں اینٹیمنی، بیریئم، برومین، کیڈمیئم، کرومیئم، سیسہ اور سیلینیئم جیسے خطرناک عناصر موجود تھے۔پرانے دور میں جب کھلونے بنائے جاتے تھے تو ان میں ان عناصر کی موجودگی کے بارے میں سوچا نہیں جاتا تھا اور ان کھلونوں کے بازار میں آنے سے پہلے حفاظتی رہنما اصولوں سے متعلق ٹیسٹ نہیں کیے جاتے تھے۔انہی کھلونوں کو جب بچے اپنے منہ میں رکھتے ہیں تو یہ کیمیکل ان کے منہ میں جاتے ہیں جن سے انہیں زبردست نقصان پہنچ سکتا ہے.ڈاکٹر ٹڑنر کی تحقیق کے مطابق سرخ، پیلی اور سیاہ پلاسٹک سے بنے کھلونوں سے زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ والدین کو ایسا لگتا ہے کہ استعمال شدہ کھلونے استعمال کرنے میں ہرج ہی کیا ہے۔

انھیں لگتا ہے کہ کم از کم قریبی دوستوں اور خاندان والوں سے بچوں کے لیے پرانے کھلونے لیے جا سکتے ہیں. سیکنڈ ہینڈ کھلونوں کی دکانوں سے یہ کھلونے سستے بھی مل جاتے ہیں۔ لیکن یہ آپ کے بچے کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر ٹرنر کہتے ہیں کہ پلاسٹک کے گہرے رنگ والے اور وہ کھلونے جنھیں بچے آسانی سے منہ میں ڈال سکتے ہیں، ان کے بارے میں والدین کو مزید معلومات دی جانی چاہییں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…