ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

باہر سے عورتوں کو سکول کے اندر لاتا اور انکی فحش ویڈیوزبناتا کیونکہ،نجی سکول کے پرنسپل کا ہوش اڑا دینے والا انکشاف

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور کی ایک مقامی عدالت نے نجی سکول کے پرنسپل کو بچوں کو ہراساں کرنے ، پورنو گرافی، ریپ اور غیر اخلاقی تعلقات قائم کرنے کا ملزم قرار دے دیا ۔ ملزم عطااللہ مروت کا عدالت کے روبرو اپنے جرائم سے انکار، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یاسر شبیر نے مقدمے کی اگلی سماعت 3 فروری تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے گواہان کو طلب کرلیا ۔واضح رہے کہ ملزم سکول پرنسپل عطا اللہ مروت کو 14 جولائی کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا

جب ایک طالبعلم نے اس کے خلاف تھانے میں شکایت درج کرائی تھی ۔ لڑکے نے الزام لگایا تھا کہ پرنسپل عطااللہ مروت جو کہ سکول کا مالک بھی ہے نہ صرف لڑکوں کے ساتھ غلط کاری کرتا ہے بلکہ لڑکیوں کے ساتھ بھی نازیبا حرکات کرتا اور خفیہ کیمروں کے ذریعے ان کی ریکارڈنگ کرتا ہے۔ پرنسپل نے اپنے سکول میں جگہ جگہ خفیہ کیمرے لگوا رکھے ہیں۔یا درہے کہ ملزم کی درخواست ضمانت پہلے ہی پشاور ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منسوخ کرچکے ہیں جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے پرنسپل کو 8 دفعات کے تحت ملزم قرار دیا۔ ملزم کے خلاف مقدمہ خواتین کے کپڑے پھاڑنے، ریپ کرنے کیلئے سزا دینے، بچوں کا جنسی استحصال کرنے، جنسی ہراسگی، چائلڈ پورنو گرافی، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ کی خلاف ورزی، بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی تعلق قائم کرنے اور جنسی تشدد کرنے کی دفعات کے تحت قائم کیا گیا۔ملزم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے 18 سال سے کم عمر بچیوں کو نہ صرف جنسی عمل کی ترغیب دی بلکہ انہیں ہراساں بھی کیا جبکہ ننھی طالبات کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ملزم پر بچوں کے علاوہ خواتین کو فون کال پر قتل کی دھمکیاں دے کر اور دیگر اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرنے اور ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 19 جولائی 2017 کو ملزم نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ وہ سکول میں باہر سے خواتین لا کر ان کی ویڈیوز بناتا ہے کیونکہ یہ اس کا مشغلہ ہے، اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس کے کمپیوٹر میں اس قسم کی 26 ویڈیوز موجود ہیں۔عوام کی جانب سے سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غصے کا اظہار کیا جارہا ہے اور ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…