جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

زینب کے قاتل عمران کا پیر جس کے دم کرنے کے بعد وہ کمسن بچیوں کو زیادتی کانشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیتا تھا اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے، خبر نے سب کو چونکا دیا

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور کی ننھی زینب کا قاتل عمران اس وقت قانون کے شکنجے میں ہے اور اس سے سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ گرفتاری کے بعد قاتل عمران نے انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا ایک پیر ہے جو اس پر دم کرتا تھا جس کے بعد اس میں جن آجاتا تھا جو اسے کم سن بچیوں کو اغوا کے بعد زیادتی اورپھر قتل کرنے پر مجبور کرتا تھا۔

پولیس نے عمران کے انکشاف کے بعد اس کے پیر کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ زینب کے قاتل عمران کی نشاندی پر پولیس نے جس پیر کو گرفتار کیا اس کا نام قاری سہیل احمد ہے۔پولیس نے مقدمے میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے پر قاری سہیل احمد سمیت مزید چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ڈی پی او قصور زاہد مروت کے ترجمان محمد ساجد نے مقامی میڈیا کو ایک وٹس ایپ میسج جاری کیا ہے جس میں آگاہ کیا گیا ہے کہ قاری سہیل سمیت کوئی بھی مشتبہ فرد پولیس کی تحویل میں نہیں ۔ مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے رات گئے قاری سہیل احمد کو رہا کر دیا ہے جس نے رہائی کے بعد مقامی میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے دوران حراست اس کے موبائل فون ڈیٹا اور کال ریکارڈ کا معائنہ کیا اور قاتل عمران سے ان کے تعلقات بارے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔واضح رہے کہ زینب کے والد محمد امین انصاری نے گزشتہ روز اپنے وکیل آفتاب احمد باجوہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پولیس فوری طور پر مشتبہ قرار دئیے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کرے ورنہ وہ جمعہ کے روز احتجاجی دھرنا دیں گے۔ مقامی میڈیا نمائندوں کے مطابق ڈی پی او کے ترجمان کی جانب سے وٹس ایپ پر جاری کیا گیا میسج بھی اسی تناظر میں جاری کیا گیا ہے جس میں واضح کرنا تھاکہ پولیس نے تمام مشتبہ افرادکو رہا کر دیا ہے اور اس کے پاس کسی مشتبہ فرد کی اب تحویل باقی نہیں رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…