جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب ، کرپشن کیخلاف مہم میں گرفتار افراد میں سے 95اب بھی قید کی زندگی گزارنے پر مجبور

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

ابوظہبی(آن لائن) سعودی عرب میں 3 ماہ قبل شروع کی گئی کرپشن کیخلاف مہم میں گرفتار کیے گئے لوگوں میں سے 95 افراد اب بھی سعودی حکام کی قید میں موجود ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق سعودی ذرائع ابلاغ نے اٹارنی جنرل سعود الموجد کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ سعودی انفوگرافک کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کہا گیا کہ حراست میں لیے گئے وہ افراد جو اپنے مقدمے کے خاتمے کے لیے مالی معاہدے کے لیے راضی نہیں ہوں گے انہیں جلد پبلک پروسیکیوشن میں ٹرائل کے لیے پیش کیا جائے گا۔

سعودی عرب کی ریاست سے تعلق رکھنے والی نیوز ویب سائٹ سبق نے اٹارنی جنرل کے بیان کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ حراست میں لیے گئے 90 افراد کو نقد، ریئل اسٹیٹ اور دیگر اثاثوں کے معاہدے پر رضامندی کے بعد چھوڑ دیا گیا۔حراست میں موجود ان95 افراد میں ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال بھی شامل ہیں، جنہیں نومبر 2017 میں اس وقت گرفتار کیا تھا، جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بڑے شہزادوں، تاجروں اور حکام کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔خیال رہے کہ ولید بن طلال عوامی سطح کی مختلف کمپنیوں کے چیئرمین ہیں جبکہ انہوں نے ٹویٹر، ایپل، سٹی گروپ اور فور سیسن ہوٹل کی چین میں بھی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے جبکہ وہ رائڈنگ شیئرنگ سروس لفٹ اور کریم کے بھی سرمایہ کار ہیں۔اس سے قبل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ اگر مالی معاہدہ نہیں ہوتا تو قیدیوں کے خلاف مقدمہ اور مزید تحقیقات ہوں گی جبکہ انہیں 6 ماہ یا اس سے زیادہ سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔سعودی عرب میں نومبر 2017 میں حراست میں لیے گئے افراد میں 11 شہزادے بھی شامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو ریاض کے عالیشان ہوٹل رٹز کارلٹن میں رکھا گیا ہے جبکہ تب سے اس ہوٹل کو عوام کے لیے بند کردیا گیا ہے، تاہم ہوٹل کی ویب سائٹ پر 14 فروری سے دوبارہ بکنگ کا ا?غاز کر رہی ہے۔گرفتار کیے گئے افراد میں مرحوم بادشاہ عبداللہ کے دو بیٹے بھی شامل تھے ۔

جس میں میتاب بن عبداللہ کو گرفتاری کی رات نیشنل گارڈ کے سربراہ کی پوزیشن سے نکال دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ سعودی عوام کئی دہائیوں سے حکومتی بدعنوانی اور اعلیٰ حکام کی جانب سے سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات کرتے ا?رہے ہیں لیکن بڑے تاجروں، شہزادوں اور رازداروں کو حراست میں لیا گیا جس سے غیر ملکی سرمایہ کار پریشان ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…