جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

القدس بارے ٹرمپ کا فیصلہ باقابل قبول،اسرائیل سے مذاکرات ہوسکتے ہیں،روس

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

ماسکو(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد فلطینی اتھارٹی کی قیادت نے امریکیوں سے رابطے ختم کرنے کے ساتھ متبادل ثالث کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے تنازع کے حل کے لیے امن مساعی میں مدد کے حصول کی خاطر چین اور روس کے ساتھ رابطے شرروع کیے ہیں۔

محال ہی میں مشرق وسطیٰ کے لیے روس کے امن مندوب سیرگی فیرشینین نے فلسطین اور اسرائیل کا دورہ بھی کیا۔ادھرروس نے کہاہے کہ روسی مندوب نے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل یعلون اوشبیز ، قومی سلامتی کے وائس چیئرمین ارنا میزراحی، تنظیم آزادی فلسطین کے سیکرٹری صائب عریقات اور انٹیلی جنس چیف ماجد فرج سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور روس پر مشتمل گروپ چار کے مندوبین بھی موجود تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ماسکو میں عرب سفارت کاروں سے ملاقاتوں کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس کے بارے میں فیصلے کے خطرات پر خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس القدس کے معاملے میں فلسطینی قوم کے جذبات کو سمجھتا اور ان کی قدر کرتا ہے۔ فلسطینیوں نے کچھ حاصل نہ کرنے کے باوجود اپنے موقف میں پسپائی اختیار کی ہے۔ وہ اسرائیل کے ساتھ غیر مشروط براہ راست بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔ روس دونوں فریقوں کو بات چیت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا مرکزی محور ہے۔ تنازع فلسطین کے حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جنگ ختم نہیں ہوسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…