ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

پی ایس ایل پر منڈلاتا خطرہ دور، فرنچائز اور بورڈ میں معاملات طے پا گئے

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی)فرنچائز کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو واجبات کی جلد از جلد ادائیگی کی یقین دہانی کے بعد 22 فروری سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد ممکنہ نظر آنے لگا تاہم فرنچائز نے مطالبہ کیا کہ ایک مشترکہ فورم تشکیل دیا جائے تاکہ پی سی بی اور فرنچائز ایک دوسرے کے تحفظات سن کر مستقبل میں اس قسم کی غلط فہمی سے بچ سکیں۔

پی سی بی کے ایک آفیشل نے بتایا کہ تمام فرنچائزوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور امید ہے کہ وہ جلد اپنے واجبات ادا کر دیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کی چھ میں سے پانچ فرنچائزیں مکمل یا جزوی طور پر پی سی بی کی ڈیفالٹ ہو گئی تھیں اور 15 نومبر کی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود وہ اپنے واجبات کی ادائیگی میں ناکام رہیں۔ پی سی بی نے ڈیفالٹرز کے خلاف سخت اقدام کرنے کا فیصلہ کیا لیکن فرنچائز کی جانب سے رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی کے بعد یہ بحران ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔دوسری جانب ایک فرنچائز مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فرنچائزوں کو کچھ تحفظات ہیں جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔فرنچائز مالک نے کہا کہ اگر کوئی ایسا فورم دستیاب ہوتا جہاں پی سی بی اور فرنچائزیں ایک دوسرے کے مسائل سن سکتے تو یہ موجودہ صورتحال کبھی پیدا نہ ہوتی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پی سی بی کی جانب سے گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات میں منعقدہ ٹی10 لیگ کے منتظمین کو پاکستانی کھلاڑیوں کو لے جانے کی اجازت دینے کے فیصلے سے فرنچائز مالکان خوش نہیں تھے لیکن بورڈ نے فرنچائز کے موقف کو نہیں سنا۔انہوں نے شکایت کی کہ پی ایس ایل میں فرنچائز کی جانب سے لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود انہیں ان اسٹیڈیم کے استعمال کی اجازت نہیں جن پر پی سی بی کا کنٹرول ہے۔

فرنچائز کے مالک کا کہنا تھا کہ اب کیونکہ پی ایس ایل پاکستان کا سب سے کامیاب برانڈ بن چکا ہے تو یہ پی سی بی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمے داری ہے کہ وہ ہر قسم کے غیرضروری تنازعات اور منفی چیزوں سے اسے محفوظ رکھیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب فرنچائز اور پی سی بی کے درمیان مستقل رابطہ ہو۔صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو پی سی بی سے بھی ایک غلطی سرزد ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فرنچائز کی جانب سے تمام واجبات کی وصولی سے دو ماہ قبل ہی کھلاڑیوں کے انتخاب کا ڈرافٹ کا عمل مکمل کر لیا۔ اگر بورڈ واجبات کی وصولی اور فرنچائزوں کے تحفظات دور کرنے کے بعد کھلاڑیوں کے ڈرافٹ کا عمل شروع کرتا تو تیسرے ایڈیشن سے قبل ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…