جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

زینب قتل کیس کے ملزم کی گرفتاری ،ماڈرن سائنٹفک ٹیکنالوجی سے مایوس پولیس نے روایتی طریقہ استعمال کرنا شروع کر دیا،کمائی شروع،افسوسناک انکشافات

datetime 21  جنوری‬‮  2018 |

قصور(مانیٹرنگ ڈیسک) قصور پولیس نے زینب قتل کیس کے ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے ماڈرن سائنٹفک ٹیکنالوجی سے مایوس ہو کر روایتی طریقہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ حسین خاں والا جنسی سکینڈل کی زد میں آ کر قصور سے تبدیل ہونے والے پولیس افسران کو بھی مدد کے لیے بلا لیا گیا۔ تفصیل کے مطابق قصور پولیس انتہائی جدید سائنٹفک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے بھی زینب قتل کیس کے ملزم کو تاحال ٹریس کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔

باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اب پولیس نے ان سائنٹفک بنیادوں پر تفتیش کو آگے بڑھانے کی بجائے روایتی طریقہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔جس کا ایک اہم ثبوت یہ ہے کہ پولیس نے ضلع بھر سے ایک سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں پرانے ریکارڈ یافتہ،دم درود، تعویذ گنڈہ کرنے والے اور دیگر مشکوک افراد شامل ہیں جس سے اب پولیس کی چاندی ہو گئی ہے۔پولیس اہلکار کسی بھی شخص کو زینب قتل کیس میں شامل تفتیش کرنے کی دھمکی دے کر ان سے بھاری رقوم بطور رشوت وصول کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ پولیس افسران جن کی غلط پالیسیوں اور نا اہلی کی وجہ سے ضلع قصور میں حسین خاں والا جنسی سکینڈل نے جنم لیا اور جن کو اس حوالے سے ضلع بدری سمیت مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئیں ان کو بھی قصور پولیس نے اب اپنی مدد کے لیے بلا لیا ہے۔جس کو عوامی حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلٰی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ زینب قتل کیس کے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن معصوم،بے گناہ اور شریف شہریوں کو خوامخواہ تنگ نہ کیا جائے۔ قصور پولیس نے زینب قتل کیس کے ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے ماڈرن سائنٹفک ٹیکنالوجی سے مایوس ہو کر روایتی طریقہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ حسین خاں والا جنسی سکینڈل کی زد میں آ کر قصور سے تبدیل ہونے والے پولیس افسران کو بھی مدد کے لیے بلا لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…