ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب قتل کیس کے ملزم کی گرفتاری ،ماڈرن سائنٹفک ٹیکنالوجی سے مایوس پولیس نے روایتی طریقہ استعمال کرنا شروع کر دیا،کمائی شروع،افسوسناک انکشافات

datetime 21  جنوری‬‮  2018 |

قصور(مانیٹرنگ ڈیسک) قصور پولیس نے زینب قتل کیس کے ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے ماڈرن سائنٹفک ٹیکنالوجی سے مایوس ہو کر روایتی طریقہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ حسین خاں والا جنسی سکینڈل کی زد میں آ کر قصور سے تبدیل ہونے والے پولیس افسران کو بھی مدد کے لیے بلا لیا گیا۔ تفصیل کے مطابق قصور پولیس انتہائی جدید سائنٹفک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے بھی زینب قتل کیس کے ملزم کو تاحال ٹریس کرنے میں ناکام ہو چکی ہے ۔

باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اب پولیس نے ان سائنٹفک بنیادوں پر تفتیش کو آگے بڑھانے کی بجائے روایتی طریقہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔جس کا ایک اہم ثبوت یہ ہے کہ پولیس نے ضلع بھر سے ایک سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں پرانے ریکارڈ یافتہ،دم درود، تعویذ گنڈہ کرنے والے اور دیگر مشکوک افراد شامل ہیں جس سے اب پولیس کی چاندی ہو گئی ہے۔پولیس اہلکار کسی بھی شخص کو زینب قتل کیس میں شامل تفتیش کرنے کی دھمکی دے کر ان سے بھاری رقوم بطور رشوت وصول کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ پولیس افسران جن کی غلط پالیسیوں اور نا اہلی کی وجہ سے ضلع قصور میں حسین خاں والا جنسی سکینڈل نے جنم لیا اور جن کو اس حوالے سے ضلع بدری سمیت مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئیں ان کو بھی قصور پولیس نے اب اپنی مدد کے لیے بلا لیا ہے۔جس کو عوامی حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلٰی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ زینب قتل کیس کے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن معصوم،بے گناہ اور شریف شہریوں کو خوامخواہ تنگ نہ کیا جائے۔ قصور پولیس نے زینب قتل کیس کے ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے ماڈرن سائنٹفک ٹیکنالوجی سے مایوس ہو کر روایتی طریقہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ حسین خاں والا جنسی سکینڈل کی زد میں آ کر قصور سے تبدیل ہونے والے پولیس افسران کو بھی مدد کے لیے بلا لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…