جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ سے دوریاں بڑھ گئیں،پاکستان اور روس کے بڑھتے رشتے ،امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا،اہم امریکی عہدیدار نے خدشات کا اظہار کردیا

datetime 21  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے لیے نائب سابق امریکی سفیر رچرڈ ہوگلینڈ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات میں بہتری آئے گی۔ طویل المدتی تعلقات میں اتار چڑھا معمول کی بات ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پس منظرمیں پاک پیک نے پاکستان کے لیے سابق نگران اور نائب امریکی سفیر رچرڈ ہوگلینڈ کے ساتھ پاک امریکی تعلقات پرایک اہم ٹیلی فونک کانفرنس کا انعقاد کیا۔

اس میٹنگ میں امریکا بھر سے تقریبا پچاس کے قریب پاکستانی نژاد امریکی شہری شریک ہوئے۔پاک پیک واشنگٹن میں سن 1989 سے قائم ایک ایسی آرگنائزیشن ہے، جس کا مقصد امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ رچرڈ ہوگلینڈ نے کہاکہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے غیر مستحکم تعلقات ان دونوں ممالک کے لیے اچھے نہیں ہیں ۔ ان دونوں ملکوں کو ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے ان کے خارجی تعلقات کو نقصان پہنچے۔ ہمارا ایک ماضی رہا ہے۔ ہمارے تعلقات بہت مضبوط رہے ہیں۔ اس وقت پاکستانی امریکیوں اور یو، ایس کانگریس کو اس رشتے اور ہمارے ماضی کے مضبوط تعلقات کو یاد دلانا ہوگا۔ہوگلینڈ نے کہاکہ بھارت خطے میں اپنی علاقائی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس کو پورا حق ہے۔ ہر ملک کو اپنا بین الاقوامی پارٹنر چننے کی مکمل آزادی ہے۔ پاک چین دوستی ہمیشہ سے خاص رہی ہے۔ اب سی پیک معاہدے کے بعد اور بھی۔ البتہ پاکستان اور روس کے بڑھتے رشتے کچھ تعجب کا باعث ہیں۔ رشتوں میں توازن رکھنے سے ملک مضبوط ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے نائب سابق امریکی سفیر رچرڈ ہوگلینڈ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات میں بہتری آئے گی۔ طویل المدتی تعلقات میں اتار چڑھا معمول کی بات ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پس منظرمیں پاک پیک نے پاکستان کے لیے سابق نگران اور نائب امریکی سفیر رچرڈ ہوگلینڈ کے ساتھ پاک امریکی تعلقات پرایک اہم ٹیلی فونک کانفرنس کا انعقاد کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…