ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کا ہدف پارلیمنٹ نہیں ،اس کے ارکان تھے ،علی محمد خان کی منطق

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (اے این این ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ لاہور میں جلسے کے دوران عمران خان کاہدف پارلیمنٹ پر نہیں بلکہ اس میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر تنقید کرنا تھا۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ‘ادارے عمارت سے نہیں بلکہ انسانوں سے بنتے ہیں، عمران خان کا پارلیمنٹ پر سے بھروسہ کم ہونے کی وجہ اہم وزرا اور بالخصوص سابق وزیر اعظم نواز شریف کی غیر حاضری ہے۔’ان کا کہنا تھا

کہ عمران خان کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ انتہائی دبنگ اور بے باک انداز میں بات کرتے ہیں، جبکہ ان کا مقصد پارلیمنٹ کو نہیں بلکہ اس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو تنقید کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ لاہور کے مال روڈ پر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی جلسے میں تمام اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہوئیں اور مل کر ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے لیے آواز بلند کی جن کو ساڑھے چار سال سے انصاف نہیں مل سکا۔جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے ساتھ نہ بیٹھنے کے سوال پر علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہم آصف زرداری کو پاکستان کی تباہی میں برابر کا قصوروار ٹھہراتے ہیں، ہمارے نزدیک وہ اور نواز شریف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جبکہ اگر آصف زرداری ماڈل ٹاؤن سانحے کے قاتلوں کے خلاف احتجاج میں شامل ہونا چاہتے تھے تو ہم انہیں روکنے والے کون ہوتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی ہونی چاہیے لیکن ان چار سالوں میں پارلیمنٹ اس امر میں ناکام رہی، اسی پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم ہوئی اور اسی پارلیمنٹ سے عدالت عظمی سے سزا یافتہ شخص کے لیے قانون بدلہ گیا اور انہیں پارٹی کا سربراہ بھی منتخب کیاگیا، اس پارلیمنٹ میں ایسے فیصلے کیے گئے جس کی وجہ سے پاکستان کے عوام آج رل رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…