اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

دنیا کا سرد ترین گاؤں جہاں درجہ حرارت منفی52تک چلاجاتاہے،یہاں لوگ کیسے زندہ رہتے ہیں؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کا سرد ترین رہائشی مقام روس کا ایک قصبہ ویمیا کون ہے جہاں درجہ حرارت منفی 52 تک چلاجاتا ہے، سردیوں میں یہاں سورج صرف 3 گھنٹوں کے لیے طلوع ہوتا ہے۔تفصیلات کے مطابق قطب جنوبی میں درجہ حرارت اس قدر کم ہے منفی 92 ڈگری سینٹی پر بھی چلا جاتا ہے لیکن روس میں ایک گاؤں ایسا ہے جسے دنیا کا سب سے سرد ترین قصبہ(رہائشی مقام) قرار دیا گیا ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین رہائشی علاقہ ہے جہاں سردیوں میں سورج صرف تین گھنٹے کے لیے طلوع ہوتا ہے

اور گرمیوں میں دن 21 گھنٹے تک ہوجاتا ہے۔یہ قصبہ دریائے انڈیگر کے کنارے واقع ہے ،اس قصبے کی کل آبادی 800 افراد پر مشتمل ہے، یہ مستقل طور پر منجمد اور سرد ترین علاقہ ہے جو ہر وقت خوفناک سردی کی لیپٹ میں رہتا ہے جس کا درجہ حرارت منفی 52 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلاجاتا ہے۔ یہاں کی سردی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی عمارت سے کھولتا ہوا پانی پھینکا جائے تو وہ زمین پر گرنے سے قبل ہی برف میں تبدیل ہوجاتا ہے۔اس گاؤں میں سال 1924 میں تاریخ کا کم ترین درجہ حرارت منفی 71 تک ریکارڈ کیا گیا تھا،حیرت انگیز طور پر گاوں کے مکینوں نے اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھال لیا ہے۔سال بھر برف کی چادر اوڑھے اس گاوں کے مکینوں کی خوراک قطبی ہرن اور گھوڑے کا گوشت ہے جب کہ مشروب کے طور پر گھوڑے کے دودھ کا استعمال عام ہے یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ غذائیت کی کمی کا شکار نہیں ہوتے۔پورے گاوں کے لیے ایک چھوٹی سی دکان ہے جہاں روزمرہ ضروریات کی چیزیں دستیاب ہوتی ہیں جب کہ راستے میں ایک پیٹرول پمپ بھی ہے جو سیاحوں کو اگلے سفر کے لیے تیار رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے مکین سارا دن اپنی گاڑیاں چلاتے رہتے ہیں کہ مبادا ایک بار گاڑی بند کی تو انجن مکمل طور پر ہی بند نہ ہو جائے کیوں کہ سخت سردی کے باعث بیٹری ڈاون ہوجاتی ہے۔گاوں اب بھی جدید سہولتوں سے محروم ہے

یا یوں کہہ لیں کہ گاوں کے باسیوں نے خود کو ماحول کے مطابق ایسا ڈھال لیا ہے کہ وہ اپنی ضروریات بھی اپنے ماحول اور موسم سے پوری کرتے نظر آتے ہیں۔گھروں میں کوئلہ اور لکڑی کو جلا کر توانائی اور روشنی حاصل کی جاتی ہے اور گاوں کے پاور ہاوس میں لکڑی یا کوئلہ کی کمی درپیش آجائے تو گاوں پانچ پانچ گھنٹے کے لیے تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ گاوں میں کھیتی باڑی زمین کی کم یابی اور سخت موسم کے باعث نا ممکن ہے اس لیے پورے گاوں میں قطبی ہرن، گھوڑے کی فروخت اور آئس فشنگ ہی روزگار کے ذرائع ہیں۔

گاوں میں ایک اسکول بھی ہے جو صرف منفی 50 سے زیادہ درجہ حرارت ہونے ہر ہی بند کیا جاتا ہے یہاں سردیوں میں دن 3 گھنٹے تک کا ہوتا ہے جب کہ گرمیوں میں 21 گھنٹے تک کا بھی ہو سکتا ہے۔یہاں جون جولائی اور اگست مہینے گرم ترین مہینے ہوتے ہیں جہاں درجہ حرارت کم سے کم 20 سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ 30 درجہ حرارت تک پہنچ جاتا ہے۔ اس گاوں میں جدید سہولیات پہنچے بھی تو کیسے کہ یہاں موبائل کی بیٹری کو چارج کیے رکھنا کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں، سخت سردی

جب گاڑیوں کو بیٹری کو ڈاون کردیتی ہیں تو بے چارہ موبائل کس کھاتے میں آتا ہے۔ شادی بیاہ کی رسومات ہوں یا خوشی کے کئی اور مواقع یہاں کے مکین خوش ہونا نہیں بھولے، رنگین و سرد موسم میں روایتی رقص اور رسومات کی گرمی ایک الگ ہی ماحول پیدا کر دیتی ہے۔ جہاں خوشی کے لمحات منفرد و نرالے ہیں وہیں جنازے کی تدفین بھی کسی کٹھن مر حلے سے کم نہیں اپنے پیاروں کو دفنانے کے لیے

کئی فٹ گہری قبر کھودنا پڑتی ہے جس کے لیے دہکتے کوئلوں کی مدد سے تہہ در تہہ جمی برف کو پگھلایا جاتا ہے۔برف باری کے دوران بھی زمین کی سطح تک پہنچنے کے بعد کھدائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور کئی فٹ گہرائی میں مردے دفنا دیئے جاتے ہیں جس میں اکثر تین دن سے ایک ہفتہ تک کاعرصہ بھی لگ جاتا ہے۔موسم کی سختیوں نے یہاں برسوں سے رہائش پذیر مکینوں کو سخت جان بنا دیا ہے موسمی تغیرات نہ تو یہاں کی معمولات زندگی کو روک پایا ہے اور نہ ہی اس سرزمین سے مکینوں کی محبت کو کم کر سکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…