جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ہمیں واپس پاکستان جانا ہے، انسانی سمگلروں کی مدد سے یونان پہنچنے والے پاکستانی مہاجرین کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا،افسوسناک انکشافات

datetime 16  جنوری‬‮  2018 |

ایتھنز(این این آئی)انسانوں کے اسمگلروں کی مدد سے یورپ پہنچنے والے درجنوں پاکستانی مہاجرین اور تارکین وطن واپس پاکستان جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت انہیں خصوصی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والا علی نے بتایاکہ وہ گزشتہ برس ہی یونان پہنچا تھایونان پہنچنے کی خاطر وہی خطرناک راستہ استعمال کیا جو پاکستانی تارکین وطن میں کافی مقبول ہے

یعنی ایران، ترکی اور پھر یونان،میں انسانوں کے اسمگلروں کو چھ لاکھ روپے دیے تھے، جنہوں نے لیسبوس کے یونانی جزیرے پر پہنچا دیا ۔ آج کل میں یونانی دارالحکومت ایتھنز میں مقیم ہوں اور واپس پاکستان جانے کے لیے بے قرار بھی۔ایتھنز میں متعدد ایسے پاکستانی مہاجرین ہیں، جو آئی او ایم کے اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جو یونان پہنچنے کے بعد اتنے زیادہ بد دل ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے خرچے پر ہی واپس جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان میں گجرات سے تعلق رکھنے والے عدیل بھی شامل ہیں۔ایتھنز میں پاکستانی سفارتخانے کے باہر انہوں نے بتایا کہ یونان میں کوئی مستقبل نہیں، اس لیے وہ اپنے ہی پیسے خرچ کرتے ہوئے واپس پاکستان جا رہے ہیں۔عدیل کے مطابق وہ پیسہ کمانے یورپ آئے تھے لیکن یہاں حالات ایسے نہیں کہ وہ کوئی کام کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انسانوں کے اسمگلروں کو خطیر رقوم دے کر یونان پہنچے لیکن یہاں ہر وقت ڈر ہی لگا رہتا ہے کہ پولیس انہیں پکڑ لے گی۔مہاجرین کے لیے بنائے گئے شیلٹر ہاؤسز کا حال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں بہت ہی بری صورتحال ہے، نہ خوراک ہے اور نہ ہی طبی سہولیات۔ بہت برا حال ہے۔عدیل کہتے ہیں کہ واپس وطن جا کر کم از کم وہ آزادی سے سانس تو لے سکیں گے۔ عدیل کے بقول پاکستان میں سلامتی اور روزگار کے مسائل بہت زیادہ ہیں، جن کے باعث نوجوان یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق جیسا بھی ہو، اپنا وطن آخر اپنا ہی ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…