ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

تراسی سالہ نیپالی کی ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کی ریکارڈ کوشش

datetime 24  اپریل‬‮  2015 |

کھٹمنڈو(نیوزڈیسک)نیپال کے ایک تراسی سالہ سابق گورکھا فوجی نے آج جمعہ چوبیس اپریل کو اپنی اس مہم کا آغاز کر دیا، جس کے تحت وہ ایک بار پھر دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے سب سے عمر رسیدہ کوہ پیما بننا چاہتے ہیں۔کھٹمنڈو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس بہت تجربہ کار لیکن بزرگ کوہ پیما کی نام مِن بہادر شَیرچن ہے اور انہوں نے اپنی مہم کا آغاز آج ملکی دارالحکومت کھٹمنڈو سے نیپال کے قومی دن کے موقع پر کیا۔مِن بہادر شَیرچن ماضی میں بھی ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کر چکے ہیں اور تب بھی وہ یہ کامیابی حاصل کرنے والے دنیا کے عمر رسیدہ ترین کوہ پیما تھے۔ لیکن 2013ئ میں ان کا یہ عالمی ریکارڈ ایک جاپانی کوہ پیما ی±وئی چیرو می ی±ورا نے توڑ دیا تھا، جنہوں نے 80 برس کی عمر میں یہ چوٹی سر کی تھی۔نیپالی محکمہ سیاحت کے مطابق شَیرچن نے گزشتہ برس بھی ایک بار پھر ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کی تھی، جب ان کی عمر 82 برس تھی۔ تب لیکن انہیں اپنی یہ مہم اس لیے نامکمل ہی ختم کرنا پڑ گئی تھی کہ شَیرچن کوبہت خراب موسم کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔آج جمعے کے روز اپنی اس نئی مہم کے آغاز سے قبل مِن بہادر شَیرچن نے، جو سالہا سال تک برطانوی گورکھا فوج میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دے چکے ہیں، بدھ کے روز کھٹمنڈو ہی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ”میں ایک بار

36

پھر ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہوں تاکہ دنیا پر ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا جائے کہ نیپالی گورکھا فوجی کتنے بہادر ہوتے ہیں۔“ڈی پی اے کے مطابق اس بزرگ نیپالی کوہ پیما کی ماو¿نٹ ایورسٹ کو زیر کرنے کی تازہ ترین کوشش میں برطانیہ میں نیپال سے باہر رہنے والے نیپالی باشندوں کی تنظیم کی طرف سے خاص طور پر تائید و حمایت کی جا رہی ہے۔اسی سیزن میں کئی دوسرے کوہ پیما بھی ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے ساتھ کئی طرح کے دیگر ریکارڈ قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ نیپالی شہری گوپال شریستھا بھی دنیا کی اس بلند ترین چوٹی کے اوپر تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ اگر وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہو گئے تو وہ ماو¿نٹ ایورسٹ سر کرنے والے دنیا کے پہلے ایچ آئی آئی مریض ہوں گے۔اس کے علاوہ ایک اور نیپالی شہری لیلا بہادر باسنَیت اس کاوش میں ہیں کہ وہ کھٹمنڈو سے ایورسٹ کی چوٹی تک کا سفر اور پھر اسی شہر میں واپسی صرف 10 روز میں مکمل کر لیں۔ یہ بھی اس لیے ایک نیا عالمی ریکارڈ ہو گا کہ آج تک کوئی بھی کوہ پیما اتنے کم دنوں میں ایسا نہیں کر سکا ہے۔عام کوہ پیما ایورسٹ کو سر کرنے سے پہلے کئی ہفتے خود کو اس علاقے اور انتہائی بلندی پر سخت موسم کا عادی بنانے کے لیے صرف کرتے ہیں۔ ایورسٹ کی بلندی 8840 میٹر ہے جبکہ کھٹمنڈو سطح سمندر سے قریب 1400 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں موجودہ سیزن کے دوران اب تک قریب 400 کوہ پیما ایورسٹ کے بیس کیمپ تک پہنچ چکے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…