ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب قتل کیس میں حراست میں لئے گئے مشتبہ افراد سے تفتیش ، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نوازخان نے اہم اعلان کردیا

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نوازخان نے کہا ہے کہ زینب قتل کیس میں حراست میں لئے گئے مشتبہ افراد سے تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے اور تفتیشی ٹیمیں کیس کے تمام پہلوؤں پر شب و روز تحقیق میں مصروف ہیں معصوم زینب کا قاتل زیادہ دیر قانون کی حراست سے دور نہیں رہ سکتا ،پنجا ب پولیس اس کیس کو چیلنج سمجھ کر حل کرنے میں مصروف ہے اور کیس کی تفتیش میں تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایاجارہا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی پی او آفس قصور میں زینب قتل کیس کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کے دوران کیا ۔ اجلاس میں جے آئی ٹی سربراہ آر پی او ملتان محمد ادریس ، آر پی او شیخوپورہ ذوالفقار حمید، ڈائریکٹرجنرل پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی ڈاکٹرمحمد اشرف طاہر، ایس ایس پی آئی سی تھری اکبر ناصر، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور چوہدری سلطان ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن وقاص نذیر، اے آئی جی لیگل عبدالرب ، ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت ، ایس ایس پی سپیشل برانچ عرفان اللہ خان سمیت جے آئی ٹی کے دیگر ممبران بھی موجود تھے ۔ اجلاس میں جے آئی ٹی سربراہ محمد ادریس نے آئی جی پنجاب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ زینب قتل کیس کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزم کے خاکے سے ملتے جلتے علاقے کے تمام افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ تیزی سے مکمل کروائے جارہے ہیں جس پر آئی جی پنجا ب نے ڈائریکٹرجنرل پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی ڈاکٹرمحمد اشرف طاہر کو کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹوں کی رپورٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر مرتب کیا جائے تاکہ تفتیش کے عمل میں مزید تیزی آ سکے ۔ اجلا س میں آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ کیس کی تفتیش کے دوران اگر تفتیشی ٹیموں کو ٹیکنالوجی یا وسائل کے حوالے سے کسی چیز کی ضرورت ہے تو فورا سنٹرل پولیس آفس کو اطلاع کی جائے مطلوبہ وسائل کی فراہمی میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مظاہروں کے دورن جان بحق ہونیوالے شہریوں کے مقدمات پر تفتیش کے دوران میرٹ کو ہر قیمت یقینی بنایا جائے اور ان مقدمات کے چالان جلد از جلد مکمل کرکے عدالتوں میں جمع کروائے جائیں ۔ اجلاس کے بعد آئی جی پنجاب نے زینب قتل کیس پر کام کرنے والے دیگر انٹیلی جنس ایجنسیز کے افسران سے بھی ملاقات کی اور تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سمیت دیگر پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اپنے دورے کے دوران آئی جی پنجاب نے پولیس لائنز میں قصور کے شہریوں اوردیگر کیسز کے مدعیان سے بھی ملاقات کی اور انہیں قاتل کی جلد از جلد گرفتاری کے حوالے سے یقین دہانی کروائی ۔ اس موقع پر لوگوں نے تفتیش کے جدید طریقہ کار پربھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پنجاب پولیس کی ٹیمیں کام کر رہی ہے امید ہے کہ زینب سمیت دیگر معصوم بچیوں کا قاتل زیادہ دیر قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…