جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ٹیلی کام کمپنیاں صارفین سے زائد ٹیکس وصول کر رہی ہیں، ایف بی آرکا انکشاف

datetime 14  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نرخ میں تفریق ہے جبکہ یہ کمپنیاں حکومت کو ادا کیے جانے والے ٹیکس سے زائد ٹیکس صارفین سے وصول کرتی ہیں۔ ایف بی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) محمود اسلم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بتایا ’ نجی موبائل کمپنی ٹیلی نار کی جانب سے

ادارے کے ویب پورٹل پر دی جانے والی تفصیلات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی نے گزشتہ برس جولائی سے نومبر تک حکومت کو 26 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اضافی ٹیکس ادا نہیں کیے۔ ڈی جی ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ جیسے ہی کمپنی کی جانب سے جواب داخل کیا جائے گا ویسے ہی کمیٹی کو اس کی واضح تفصیل کے بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا۔ڈی جی ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ادارے نے ٹیلی کام کمپنیوں سے محصولات حاصل کرنے میں بہتری کے لیے طریقہ کار تیار کیا گیا ہے جس نے حکومت کو موجودہ ٹیکس وصولی کے موجودہ نظام میں خرابی کو ختم کرنے فعال بنایا ہے۔بریفنگ کے دوران محمود اسلم نے بتایا کہ روز مرہ کی بنیاد پر تمام موبائل آپریٹرز کی کروڑوں ٹرانزیکشنز کا تجزیہ لگانے کے لیے ادارے نے ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کمپنیوں کے ودہولڈنگ ٹیکس کی موثر نگرانی کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی نار کے کیس میں ایف بی آر کے افسران نے صارفین سے وصول کیے گئے ٹیکس کے حوالے سے آڈٹ کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ادارہ ٹیکس وصولی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دیگر کمپنیوں کا بھی آڈٹ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…