جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

زینب سے پہلے اغوا اور زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی جو زندہ بچ گئی ، آج کس حال میں ہے، درندہ صفت مجرم کیسے اس کےجسم کے حصوں کو سگریٹ سے جلاتے رہے، روح تک کو دہلا دینے والی داستان

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور میں بچیوں کے اغوا کے بعد زیادتی اور پھر قتل کے واقعات سال بھر سے جاری ہیں مگر پولیس ملزمان کو پکڑنا تو درکنار ان کی گرد کو بھی نہ پہنچ سکی اور اس سب کی وجہ پولیس کا شرمناک کردار ہے اور بے حسی کے ساتھ نالائقی اور کاہلی ہے۔

زینب کے قتل سے قبل10سمبر کو قصور میں ایک اور بچی بھی اسی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ بچی گھر کے کونے پر موجود دودھ دہی کی دکان پر دہی لینے کیلئے شام 6بجے گئی اور پھر لوٹ کے نہ آئی اہل خانہ رات بھر تلاش کرتے رہے اور پھر صبح 8بجے ایک گرائونڈ سے نیم مردہ حالت میں بچی ملی جسے وہاں موجود و فرشتہ صفت بزرگوں نے ہسپتال پہنچایا اور اہل خانہ کو خبر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے زیادتی کے ساتھ بچی پر بے پناہ تشدد کیا ، بچی کے جسم کو سگریٹ سے جلاتا رہا اور اس کے ناخنوں کو بھی سگریٹ سے داغتا رہا۔ نجی ٹی وی نیو نیوز کے پروگرام پکار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی جس وقت نیم مردہ حالت میں ملی اس وقت اس کے چہرے پر بھی جلنے کے نشانات موجود تھے۔ یہ بچی اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ والدہ کا کہنا ہے کہ بچی کو ذہنی طور پر شدید دھچکا پہنچا ہے اور وہ ہر وقت خوفزدہ اور سہمی ہونے کے علاوہ روتی رہتی ہے۔ اس وقت بچی کسی کو پہچاننے اور بولنے کی پوزیشن میں نہیں جس کی وجہ سے انتظار کیا جا رہا ہے کہ جیسے ہی بچی ذہنی طور پر مضبوط ہو اور بیان دینے کے قابل ہو تب اس کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کی جا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…