بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

زینب سے پہلے اغوا اور زیادتی کا نشانہ بننے والی بچی جو زندہ بچ گئی ، آج کس حال میں ہے، درندہ صفت مجرم کیسے اس کےجسم کے حصوں کو سگریٹ سے جلاتے رہے، روح تک کو دہلا دینے والی داستان

datetime 13  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور میں بچیوں کے اغوا کے بعد زیادتی اور پھر قتل کے واقعات سال بھر سے جاری ہیں مگر پولیس ملزمان کو پکڑنا تو درکنار ان کی گرد کو بھی نہ پہنچ سکی اور اس سب کی وجہ پولیس کا شرمناک کردار ہے اور بے حسی کے ساتھ نالائقی اور کاہلی ہے۔

زینب کے قتل سے قبل10سمبر کو قصور میں ایک اور بچی بھی اسی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ بچی گھر کے کونے پر موجود دودھ دہی کی دکان پر دہی لینے کیلئے شام 6بجے گئی اور پھر لوٹ کے نہ آئی اہل خانہ رات بھر تلاش کرتے رہے اور پھر صبح 8بجے ایک گرائونڈ سے نیم مردہ حالت میں بچی ملی جسے وہاں موجود و فرشتہ صفت بزرگوں نے ہسپتال پہنچایا اور اہل خانہ کو خبر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے زیادتی کے ساتھ بچی پر بے پناہ تشدد کیا ، بچی کے جسم کو سگریٹ سے جلاتا رہا اور اس کے ناخنوں کو بھی سگریٹ سے داغتا رہا۔ نجی ٹی وی نیو نیوز کے پروگرام پکار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی جس وقت نیم مردہ حالت میں ملی اس وقت اس کے چہرے پر بھی جلنے کے نشانات موجود تھے۔ یہ بچی اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ والدہ کا کہنا ہے کہ بچی کو ذہنی طور پر شدید دھچکا پہنچا ہے اور وہ ہر وقت خوفزدہ اور سہمی ہونے کے علاوہ روتی رہتی ہے۔ اس وقت بچی کسی کو پہچاننے اور بولنے کی پوزیشن میں نہیں جس کی وجہ سے انتظار کیا جا رہا ہے کہ جیسے ہی بچی ذہنی طور پر مضبوط ہو اور بیان دینے کے قابل ہو تب اس کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کی جا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…