جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جرمن چانسلر نے حکومت سازی میں ناکامی کا اعتراف کرلیا

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کے قیام کے لیے جاری مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں اب بھی کئی بڑی مشکلات موجود ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق چانسلر میرکل کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب ان کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین، باویریا میں اپنی سسٹر جماعت کرسچن سوشل یونین کے ساتھ مل کر ملک کی دوسری سب سے بڑی جماعت

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ جمعرات کے روز ان مذاکرات کا آخری دور منعقد ہو رہا ہے اور کہا جا رہا تھا کہ جرمنی میں اتحادی حکومت کے قیام کے امکانات خاصے روشن ہیں۔گزشتہ شب مذاکرات کے بعد اپنے ایک بیان میں چانسلر میرکل نے کہا کہ مذاکرات کا ’ایک سخت دن‘ سامنے ہیں، جو رات گئے تک جاری رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین مختلف معاملات پر تمام ممکنہ لچک دکھا کر ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے گی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ملک کے لیے ’درست پالیسیوں‘ کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے۔یہ بات اہم ہے کہ ستمبر میں جرمنی میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں چانسلر میرکل کی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور اسے ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں خاصی نشستوں سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی تناظر میں میرکل نے ابتدا میں دو چھوٹی جماعتوں گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی کو ساتھ ملا کر حکومت سازی کی کوشش کی تھی، تاہم اس بابت مذاکرات ناکام رہے تھے۔اسی تناظر میں اب ملک کی دونوں بڑی جماعتیں ایک مرتبہ پھر مل کر حکومت سازی کی کوشش میں ہیں اور اگر یہ کوشش بھی ناکام رہی تو اس کا نتیجہ دوبارہ انتخابات کے انعقاد کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ایس پی ڈی کے رہنما مارٹن شْلس نے بھی مذاکرات کے

آخری مرحلے کے آغاز سے قبل کہا کہ ابتدائی مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں ’متعدد بڑی مشکلات‘ موجود ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں شریک جماعتوں کے درمیان متعدد امور پر اس حد تک اتفاق بھی ضرور ہے کہ ایک اتحادی حکومت کے قیام کے لیے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…