پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

گوگل سائیکل چوروں سے پریشان،ہرہفتے 250چوریاں

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی)گوگل نے دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے استعمال کا طریقہ تو بدل دیا مگر اس کمپنی کو سائیکل چوروں نے پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل جو اپنے ملازمین کو مراعات دینے کے حوالے سے مشہور ہے جس میں مفت سائیکلیں دینا بھی شامل ہے۔تاہم امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے مائونٹین ویو میں واقع گوگل کے ہیڈکوارٹر کو اپنی ان مفت سائیکلوں نے پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔

اس جگہ سے گوگل کی جی بائیکس نامی سائیکلیں ہر ہفتے سو سے ڈھائی سو کی تعداد میں چوری ہورہی ہیں اور کمپنی کو پریشان ہوکر حیران کن اقدامات کرنا پڑے ہیں۔ان اقدامات میں سب سے نمایاں تیس ملازمین اور پانچ وین پر مشتمل ایک ٹیم کی تشکیل ہے جس کا کام پورے علاقے سے چوری شدہ سائیکلوں کو برآمد کرنا یا انہیں چوری ہونے سے بچانا ہے۔گوگل نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ سائیکلوں پر جی پی ایس ٹریکرز کی آزمائش بھی کی جنھیں کمپنی کے ملازمین ہی اپنے فون سے اوپن کرسکتے ہیں۔گوگل نے اپنے اس مفت سائیکل پروگرام کا آغاز 2007 میں کیا تھا اور 2009 میں رنگا رنگ جی بائیکس کو متعارف کرایا۔گوگل کا مقصد اپنے ہیڈکوارٹر والے علاقے کو کوپن ہیگن جیسے شہروں کی طرح لوگوں کے اندر سائیکل کے زیادہ استعمال کو فروغ دینا تھا۔تو یہی وجہ ہے کہ وہاں کے رہائشی ان سائیکلوں کو دوستانہ اقدام سمجھ کر جب دل کرتا ہے اٹھا کر اپنے گھر لے جاتے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ مائونٹین ویو کے میئر بھی یہاں سے ایک سائیکل لے کر جاچکے ہیں جبکہ گوگل کی مخالف کمپنی ارویکل کے ملازمین بھی اپنے دفتر جانے کے لیے یہاں کی سائیکلیں استعمال کرنے کے عادی ہیں۔وہاں کے میئر کا کہنا تھا کہ ہماری نظر میں یہ سائیکلیں درحقیقت بسوں سے نمٹنے کے لیے انعام ہے، یہ ان کی جانب سے گوگل کی ان سیکڑوں بسوں کا حوالہ تھا جس میں مختلف شہروں سے روزانہ ملازمین یہاں آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…