بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

زینب قتل کیس، مجرم کو ضیاء الحق دور کے پپو کیس کی طرح سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے، چودھری شجاعت نے خصوصی عدالتوں بارے مطالبہ کر دیا

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ زیادتی پر زبانی بیان بازی سے کچھ نہیں ہو گا، ضیاء الحق دور کے پپو کیس کی طرح ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے اور آرمی کی طرز پر خصوصی عدالتیں قائم کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ پپو کیس کے مجرم کو سرعام پھانسی پر لٹکایا گیا تھا اور جنرل ضیاء الحق کا حکم تھا کہ سورج غروب ہونے تک اس کی لاش کو وہیں لٹکا رہنے دیا جائے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں، یہی وجہ ہے کہ اس کے کئی سال بعد تک ایسا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی وہ سب کو یادہے، اس سانحہ کے بعد چودھری پرویزالٰہی سب سے پہلے منہاج القرآن پہنچے تھے انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ کس طرح وہاں کیسی سفاکی سے حاملہ خاتون اور طالبات سمیت بیگناہوں کا خون بہایا گیا، پولیس والوں نے جوتوں سمیت اندر گھر کر قرآن پاک کے سیپاروں کی بے حرمتی کی اور منع کرنے پر خواتین پر بھی گولیاں چلوائیں، یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد بھی میں نے ایسے سنگین جرائم کے کیسز کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ایسے سفاک، بے رحم اور ظالم مجرم سرعام ٹکٹکی پر لگائے جائیں اگر اس وقت حکمرانوں نے میری بات پہ کان دھرے ہوتے تو کتنے ہی بچے بچیاں اور بیگناہ لوگ سفاک مجرموں کی درندگی کا شکار ہونے سے بچ جاتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…