بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کانگو میں طوفانی بارشیں ، ہزاروں افراد بے گھر ، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

کانگو (این این آئی)افریقی ملک کانگو میں طوفانی بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورت حال کے نتیجے میں 48 افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمہوریہ ریپبلک کانگو میں 3 جنوری سے شروع ہونے والی بارشوں کا سلسلہ 7 جنوری تک جاری رہا جس میں بڑے پیمانے پر مکانات تباہ ہوگئے، دیواریں گر گئیں اور دارالحکومت کنشاسا میں متعدد

مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے حادثات بھی پیش آئے۔کانگو کے دارالحکومت میں سیلاب کے باعث ایک خاتون کے 5 بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ بارشوں کے باعث ان کا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے اور اگر وہ گھر پر نہیں ہوتے تو ان کے بچے بھی مر چکے ہوتے۔شدید بارشوں کے باعث کنساشا میں ہیضے سمیت متعدد وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صرف ہیضے کے 20 مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں لایا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں بھی کانگو کے 26 میں سے 24 صوبوں میں ہیضے کے 55 ہزار کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے اور اس وبا کے باعث 1190 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔عالمی ادارہ صحت کے حکام کے مطابق ہیضے کے باعث شدید بارشوں کے باعث ہیضے کی وبا بہت تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے۔خیال رہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ آبادی والا شہر کنساشا حالیہ بارشوں کے باعث سیلاب کے رحم و کرم پر ہے۔ شہر کا تباہ حال انفرا اسٹرکچر، گندے روڈ اور دریائے کانگو کے قریب بنی لکڑی کی جھونپڑیوں کے باعث شہر میں پہلی بارش سے ہی سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…