بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ایس ایس جی کمانڈوز مشکل گھڑی میں کیا کرتے ہیں؟ وزیراعظم کا آرمی چیف کے ہمراہ چراٹ میں ایس ایس جی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، شاہد خاقان عباسی نے ایس ایس جی کمانڈوز کے ہتھیاروں کے ساتھ کیا کیا؟

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مسلح افواج کی قربانیوں کی بدولت پاکستان میں امن ممکن ہوسکا ہے۔ جمعرات کو شاہد خاقان عباسی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ چراٹ میں اسپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ایس ایس جی ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر وزیر اعظم نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاک فوج کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔شاہد خاقان عباسی کو ایس ایس جی ادارے، صلاحیتوں اور کارکردگی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

ایس ایس جی کمانڈوز نے اپنی آپریشنل صلاحیتوں اور مہارت کا مظاہرہ بھی کیا جبکہ وزیر اعظم نے ایس ایس جی کمانڈوز کے زیر استعمال ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی۔ایس ایس جی افسران اور جوانوں سے خطاب کے دوران شاہد خاقان عباسی نے ایلیٹ فورس کی کارکردگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے ایس ایس جی اور مسلح افواج کے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کیا، جن کی بدولت پاکستان میں امن ممکن ہوسکا۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف ایس ایس جی کمانڈوز کی شاندار خدمات کو سراہا اور ایس ایس جی کمانڈوز کی بطور ایلیٹ فورس مہارت اور کارکردگی کی تعریف کی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایس ایس جی سب سے زیادہ قربانیاں دیتی ہے اور مشکل کی ہر گھڑی میں ایس ایس جی سب سے پہلے پہنچتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایس جی کی قربانیاں وہ ہیں جو منظر عام پر نہیں آتیں لیکن ہمارے کمانڈوز کی قربانیاں باعث افتخار ہیں، کارگل سے لیکر سوات تک پاک فوج کی محنت رنگ لائی ہے جبکہ آپریشن ضرب عضب میں ایس ایس جی کی محنت نظر آتی ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا ہماری ایس ایس جی کی تعریف کرتی ہے، مجھے 4 ممالک کے سربراہان نے کہا آپ کی اسپیشل فورس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔دورے میں وزیر دفاع خرم دستگیر، کور کمانڈر پشاور اور دیگر سینئر آرمی افسران بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…