جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر زینب کے والد کے عقب میں کھڑا یہ شخص جسے سوشل میڈیا پر زینب کا قاتل قرار دیا جا رہا ہے دراصل کون ہے؟ویڈیو میں ایسی بات سامنے آگئی کہ قصہ ہی ختم ہو گیا

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل میڈیا پر وطن واپسی کے موقع پر زینب کے والدکے عقب میں کھڑے شخص سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس شخص کا حلیہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں زینب کے ساتھ نظر آنے والے شخص کا ہے جس کے بعد یہ شخص اب منظر عام پر آگیا ہے اور اس کا ایک ویڈیو پیغام تیزی سے انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہا ہے جس میں مذکورہ شخص

جس کا نام وسیم خٹک ہے اسلام آباد ائیرپورٹ پر زینب کے والد کے قریب موجود ہونے کی وجہ اور اپنا تعارف کروا رہا ہے اور زینب کے قتل کے اندوہناک واقعہ سے لاعلمی اور برات کا اعلان کر رہا ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں وسیم خٹک کا کہنا تھا کہ میرا نام وسیم خٹک ہے۔میں گذشتہ دس سال سے پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ کا ممبر ہوں اور ڈاکٹر طاہر القادری کا پیروکار ہوں۔ وسیم نے بتایا کہ میرے پاس گذشتہ چار سال سے پاکستان عوامی تحریک کے ضلعی صدر کی ذمہ داری رہی ہے اور اب میرے پاس نائب صدر ضلع راولپنڈی کی ذمہ داری ہے۔ میں زینب کے والدین کو لینے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوا۔ ہمیں مرکز سے احکامات موصول ہوئے تھے کہ ہمیں ان کو واپس لاہور کے لیے بٹھانا تھا۔ان کی آمد پر ہم ان سے مل کر ان کو میڈیا ٹاک کے لیے باہر لائے تو اس وقت میری ایک تصویر لی گئی جو سوشل میڈیا پر یہ کہہ کر وائرل کی گئی کہ زینب کے قتل کا ملزم میں ہوں۔ وسیم نے کہا کہ میرا اس واقعہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ہم ظلم کے خلاف بولنے والے اور عملی طور پر کام کرنے والے قائد کے جانباز ہیں۔وسیم خٹک نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ سوشل میڈیا صارفین نے بغیر کسی ثبوت اور مضبوط وجہ کے اس پر شک کا اظہار کرتے ہوئے اسے معصوم زینب کا قاتل تک قرار دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…