اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

قصورشہبازشریف کے دفتر سے ایک گھنٹہ کے فاصلے پر ہے پھر بھی وہ رات کے اندھیرے میں قصور آئے،سراج الحق

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

قصور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ قصور کے واقعہ پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو عوام کے سامنے کھڑے ہو کر جواب دینا چاہئے تھا۔ قصور وزیراعلیٰ کے دفتر سے ایک گھنٹہ کے فاصلے پر ہے پھر بھی وہ رات کے اندھیرے میں قصور آئے۔ قصور کے اراکین اسمبلی کو غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہئے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز قصور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جماعت اسلامی

کے امیر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں غریبوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں پنجاب کے حکمرانوں نے یزید کا کردار ادا کرتے ہوئے قصور کو کربلا بنایا اب کاروان حسین ہو گا اور یزید کا گربیان ہو گا۔ زینب کا خون تقاضا کرتا ہے کہ ظالمانہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے انہوں نے کہاکہ معصوم بچی کو اغواء کر کے بے دردی سے قتل کیا گیا ۔ زینب کے ساتھ وہ ہوا جو جنگل کے درندے بھی نہیں کرتے۔ ہر گھر میں ایک زینب ہے اور ہر پاکستانی فکر مند ۔ زینب خود تو چلی گئی مگر اس ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بن گئی ۔ زینب کا خون تقاضہ کرتا ہے کہ اس ظالمانہ نظام کے خلاف کھڑا ہونا چاہئے کیونکہ ملک میں غریبوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں ۔پنجاب حکومت نے یزید کا کردار ادا کیا ہے اور پنجاب پولیس نے نہتی عوام پر ایک دفعہ پھر گولیاں برسائیں۔ اس واقعہ میں ملوث سفاک ملزمان کو ہی نہیں بلکہ عوام پر ظلم کرنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی سزا دی جائے۔ پنجاب پولیس کو شرم آنی چاہئے سراج الحق نے وزیراعلٰی پنجاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کہاں ہے ان کی وہ ایلیت فورس جس کی وہ تعریفیں کرتے ہیں ۔ قصور وزیراعلٰی پجاب کے دفتر سے ایک گھنٹہ کے فاصلے پر ہے لیکن پھر بھی شہباز شریف رات کے اندھیرے میں قصور آئے ان کو عوام کے ساؐمنے کھڑے ہو کر جواب دینا چاہئے تھا اس المناک واقعہ پر غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قصور کے اراکین اسمبلی کو مستعفی ہونا چاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…