اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

تحریک عدم اعتماد، وزیر اعلیٰ بلوچستان کو 65میں سے کتنے ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے،(ن)لیگ کیلئے تشویشناک صورتحال

datetime 8  جنوری‬‮  2018 |

کو ئٹہ (آئی این پی )تحریک عدم اعتماد کوناکام بنانے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کو 65کے ایوان میں سے 33اراکین کی حمایت درکار ہوگی ۔اس طرح اسپیکراسمبلی راحیلہ حمیدخان درانی اوروزیراعلی نواب ثنا اللہ زہری کے علاوہ اراکین کی تعداد63 ہوئی۔وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ ن کی اتحادی ق لیگ کے رکن اسمبلی میرعبدالقدوس بزنجو اور مجلس وحدت مسلمین کے سیدآغامحمدرضا نے دیگربارہ اراکین کی

جانب سے جمع کرائی تھی۔اس طرح تحریک عدم اعتماد جمع کرانیوالے اراکین کی تعداد14بنتی ہے،جس کے بعد تین ن لیگی وزرا اور دو مشیروں کے استعفوں سے ن لیگ کی اپنی صفوں میں دراڑ پڑ گئی ہے۔تحریک کے محرک عبدالقدوس بزنجو کادعوی ہے کہ انہیں 22ن لیگی اراکین میں سے 18کی حمایت حاصل ہے، تاہم موجودہ زمینی صورتحال اور قرائن سے پتا چلتاہے کہ ن لیگیوں میں سے نصف سے زائد وزیراعلی کاساتھ چھوڑ چکے ہیں جبکہ ان کاساتھ دینے والوں میں حزب اختلاف میں شامل جے یو آئی ف کیآٹھ، مسلم لیگ ق کے پانچ، بی این پی مینگل کے دو اراکین کے علاوہ بی این پی عوامی، اے این پی اور مجلس وحدت مسلمین کے ایک، ایک رکن شامل ہیں۔ایک آزاد رکن اور نیشنل پارٹی کے ایک رکن کیساتھ یہ تعداد 32 تک جا پہنچتی ہے، جمعیت کے حوالے سے خاص بات یہ ہے کہ ان کے چار اراکین پہلے ہی تحریک عدم اعتماد جمع کرانیوالوں میں شامل تھے اس لئے لگتا یہی ہے کہ جمعیت کیتمام اراکین وزیراعلی کیخلاف تحریک کاساتھ دیں گے۔اس صورتحال کے بعد اگر وزیراعلی کی پوزیشن کو دیکھاجائے تو ان کا دعوی کہ انہیں اب بھی 40 سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہے، درست نہیں لگتا جبکہ ان کے حمایتی ن لیگی اراکین کی تعداد 10 رہ گئی ہے، اس کے باوجود اتحادی جماعتوں پشتونخواہ میپ اور نیشنل پارٹی کو ملا کر انہیں کل 33 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ایک یا دو مزید اراکین کے ادھر یا ادھر ہونے سے صورتحال یکسر بدل سکتی ہے لگتا یہی ہے کہ مقررہ تعداد میں اراکین کی حمایت بہرحال وزیراعلی کیلئے ایک چیلنجنگ ٹاسک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…