اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

تعلیم اور صحت پر کام نہ ہوا تو اورنج لائن سمیت تمام منصوبے بند کردینگے، چیف جسٹس

datetime 6  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سرکاری اسپتالوں کی حالت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے سے متعلق پالیسی بناکر 15 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا اور کہا ہے کہ صحت شہریوں کا بنیادی حق ہے، صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ہماری ذمے داری ہے، سرکاری اسپتالوں میں دوائی تک میسر نہیں،مفت ادویات مل نہیں رہیں اور تشہیر پر پیسہ خرچ کیا جاریا ہے، اگر تعلیم اور

صحت کے شعبوں میں کام نہ ہوا تو اورنج لائن سمیت تمام منصوبے بند کردیں گے۔ ہفتہ کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مفاد عامہ کے تحت دائر درخواستوں کی سماعت کی جس میں نجی میڈیکل کالجوں کی فیسوں میں اضافہ اور سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کا کیس شامل ہے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے تمام نجی میڈیکل کالجز کے مالکان اور سی ای اوز سے کالجز کی عمارتوں، فیسوں کے اسٹرکچر اور لیب کی سہولیات سے متعلق بیان حلفی حاصل کیے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے سرکاری اسپتالوں کی حالت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں دوائی تک میسر نہیں، ایک اسپتال میں یہاں تک صورتحال تھی کہ مریض کو ٹانکا لگانا تھا اور دھاگا نہیں تھا۔چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری پنجاب کو حکم دیا کہ تمام سرکاری اسپتالوں کی آڈٹ رپورٹ اور فراہم کی جانے والی ادویات کی معلومات کے حوالے سے بیان حلفی جمع کرائیں جب کہ جان بچانے والی ادویات کی موجودگی کی رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔چیف جسٹس پاکستان نے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے سے متعلق پالیسی بناکر 15 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس پاکستان نے

سرکاری و نجی اسپتالوں کے دورے کے لیے اٹارنی جنرل کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دی جس میں سینئر ڈاکٹرز اور وکلا شامل ہوں گے جب کہ سرکاری اسپتالوں کی صورتحال پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے بیان حلفی بھی طلب کرلیے۔معزز جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صحت شہریوں کا بنیادی حق ہے، صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ہماری ذمے داری ہے، نوٹس کا مقصد ایکشن لینا نہیں، اسپتالوں کی حالت زار بہتر کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس کا

کہنا تھا کہ اگر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام نہ ہوا تو اورنج لائن سمیت تمام پروجیکٹ بند کردیں گے۔معزز جج نے کہا کہ شام کے وقت سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز پرائیوٹ کلینک جاتے ہیں، ڈاکٹرز اپنے کلینک بند کریں اور کلینک پر لکھیں کہ سرکاری اسپتالوں میں مصروف ہیں آج کلینک نہیں چلے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو تمام کلینک بھی بند کردیں گے۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے حکومت پنجاب کی تشہیر کے لیے کیے گئے اخراجات

کا بھی ریکارڈ طلب کرلیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ مفت ادویات مل نہیں رہیں اور تشہیر پر پیسہ خرچ کیا جاریا ہے،پنجاب حکومت اپنی تشہیر پر کروڑ وں روپے اشتہارات کی مد میں لگا رہی ہے، ٹی وی چینلز پر اپنی مشہوری کے بجائے اسپتالوں کو ادویات فراہم کریں۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس میں ملک کے تمام نجی میڈیکل کالجز میں داخلے روکنے کا حکم دے رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…