جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے شاند ار خوشخبری سنا دی ،پاکستا ن میں بجلی کا بحران ہمیشہ کیلئے ختم

datetime 5  جنوری‬‮  2018 |

بیجنگ (آئی این پی )چین کی ٹھوس حمایت کی بدولت پاکستان کو بجلی کی دیرینہ قلت پر کامیابی سے قابو پانے اور مجموعی سماجی ، اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں بھی مدد ملی ہے۔یہ بات جمعہ کو چینی میڈیا میں شائع شدہ ایک مضمون میں بتائی گئی ہے۔چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) ملکی سطح پر تعلقات کو فروغ دینے میں پاکستان سے چین کے خلوص اور دیانتدار کا بین ثبوت ہے۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت فوری

نتائج والے منصوبوں نے پانچ سال کی کم کی ریکارڈ مدت میں بجلی کی قلت پر قابو پانے میں پاکستان کو مدد دی ہے ،متعدد میگاانفراسٹرکچر پاکستانی منظر کو تبدیل کررہے ہیں، سی پیک ایک اقتصادی اور سٹرٹیجک منصوبہ ہے جو چین کو مشرق وسطیٰ ، شمالی افریقہ اور یورپ کے ساتھ اس کا مختصر ترین رابطہ فراہم کرتا ہے تا ہم چین نے ہے کہا کہ سی پیک صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے دوسرے ممالک بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں،اگر بھارت ، ایران ، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں اس کا حصہ بن جائیں تو جنوبی اور وسطی ایشیائی علاقوں کی پوری صورتحال تبدیل ہو جائے گی، بھارت کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ سی پیک کی مخالفت کر کے وہ ایک سٹرٹیجک گیم کھیل رہا ہے جو کہیں دور رہنے والے کیلئے خاصی اچھی ہے تا ہم یہ علاقے کیلئے اچھی نہیں ہے لہذا باقی رہنمائوں کو ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ، امید کی جاتی ہے کہ بھارت اپنی پالیسیوں میں ردوبدل کرے گا کیونکہ روایتی طورپر اس نے بڑی طاقتوں کیلئے پراکسی کے طورپر کام کرنے سے گریز کیا ہے اور اسے دوبارہ ایسا کرنا چاہئے ۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان حقیقی تعاون پر مبنی تعلقات نہ صرف دونوں کیلئے بلکہ پورے خطے کیلئے بہتر ہوں گے ،ہمیں دیکھنا

چاہئے کہ آیا بھارت چین کو محدو د کرنے کی کوششوں کا حصہ بنتا ہے یا امن کی آزادی کو برقراررکھتا ہے ، بھارت کی پالیسیاں 2018ء اور اس کے بعد چین کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کا تعین کریں گی تا ہم موجودہ حالات میں یہ کہیں بڑی توقع ہو سکتی ہے،چین تیز ی سے ترقی کررہا ہے تو جلد ہی اہم طاقت کے طورپر ابھرے گا اور آئندہ برسوں میں متعدد کردار نبھائے گا جو اس سے پہلے امریکہ کے لئے مخصوص تھے ، اپنی اقتصادی

پیشرفت سے نمٹنے کے بعد چین پھیلتا جارہا ہے اور بیلٹ و روڈ منصوبے کی کامیابی اس کا طاقتور ثبوت ہے۔چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھارت ، چین ، روس سہ فریقی مذاکرات میں شرکت کرنے کیلئے گذشتہ سال دسمبر میں بھارت کا دورہ کیا ، یہ ڈونگ لینگ (ڈوکلام ) بحران جس کی وجہ سے دونوں ایشیائی قوتیں مدمقابل آ گئیں کے بعد بھارت کا اعلیٰ سطح کے کسی چینی اہلکار کا پہلا دورہ تھا ،یہ اس بات کا مضبوط اشارہ تھا کہ چین 2017 ء

کی سرحدی کشیدگی سے آگے بڑھتے ہوئے تعلقات میں نئے آغاز پر تیار ہے ، یہ دورہ پرامن ہمسائیگی جو اضافے کی خط حرکت کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے سے چین کے روایتی عزم کا بھی عکاس ہے ۔وانگ نے 11دسمبر کوبھارتی جریدہ دکن ہیرالڈ میں شائع شدہ ایک مضمون میں ایک پالیسی کی وضاحت کی ، انہوں نے لکھا کہ چین اپنے ہمسائے میں استحکام برقراررکھنے اور علاقائی تعاون کی ٹھوس رفتار کیلئے کام کررہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین اپنے تمام ہمسائیہ ممالک بشمول جاپان و جنوبی کوریا کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین دونوں ممالک کے درمیان اچھی ہمسائیگی اور دوستی کی قدرکرتاہے کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے کے قریبی ہمسائے ہیں اور دونوں قدیم تہذیب کے حامل ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…