اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عدالت کا انوکھا فیصلہ ،بیٹے کو پرورش،تعلیم پر آنے والے تمام اخراجا ت ماں کو واپس کرنے کا حکم

datetime 3  جنوری‬‮  2018 |

تائپی ( آن لائن )تائیوان کی ایک اعلیٰ عدالت نے ایک شخص کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی ماں کو اس کی پرورش اور اس کی دندان سازی کی تعلیم پر آنے والے اخراجات کے حوالے سے اسے دس لاکھ ڈالر واپس کرے۔ماں نے اپنے بچے کے ساتھ 1997 میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے

جب وہ 20 سال کا تھا۔ معاہدے کے مطابق بچے نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی ماں کو اپنی ماہانہ آمدنی کا 60 فیصد حصہ دینا تھا۔جب کئی سال تک بچے نے معاہدے کے مطابق پیسے نہیں دیے تو ماں نے اس پر مقدمہ کر دیا۔بچے کا موقف تھا کہ پرورش کے پیسے مانگنا مناسب نہیں ہے، لیکن عدالت کا کہنا تھا کہ معاہدہ درست تھا اور اس کا پاس ہونا چاہیے تھا۔بچے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پچھلی ساری ماہانہ اقساط بمعہ سود کے اپنی والدہ کو ادا کرے۔ماں نے، جس کا نام صرف لو بتایا گیا ہے، اپنے شوہر سے طلاق کے بعد اپنے دونوں بچوں کی پرورش کی۔مس لو کا کہنا ہے کہ اس نے دونوں بچوں کو دندان سازی کی تعلیم دلوانے کے لیے ہزاروں ڈالر خرچ کیے، لیکن اس کے ساتھ اس کو یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں بڑھاپے میں یہ نہ ہو کہ دونوں بچے اس کا خیال رکھنے سے انکار کر دیں۔اس واسطے اس نے اپنے دونوں بچوں کے ساتھ ایک معاہدے کیا کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اسے دیں گے جو کہ ان کے سکول کی فیس پر آنے والے خرچے کے برابر ہو گا جو کہ 17 لاکھ ڈالر ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق بڑے بیٹے نے اپنی والدہ سے معاہدہ کیا اور ایک چھوٹی رقم اسے دینے پر اسے راضی کر لیا۔تاہم چھوٹے بیٹے نے، جسے اس کے نام چو سے پکارا جا رہا ہے، یہ کہا کہ جب اس نے دستخط کیے تھے تو وہ کافی چھوٹا تھا اور اس معاہدے کو درست نہ مانا جائے۔چو کا موقف ہے کہ وہ کئی سال اپنی ماں کے ڈینٹل کلینک میں کام کرتا رہا ہے اور اس نے اس

سے کئی زیادہ پیسے اسے کما کر دیے ہیں جن کا اس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ کی ترجمان نے بتایا کہ ججوں نے اپنا فیصلہ اس بنیاد پر دیا ہے کہ جب بچے نے معاہدے پر دستخط کیے تو بالغ تھا اور اس پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…