بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

نئے سال کے آغاز پرعلما کرام کی طالبان سے اہم اپیل

datetime 3  جنوری‬‮  2018 |

کابل(این این آئی)افغان طالبان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے امریکا اور اس کی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے خلاف جنگ و جدل میں مصروف چلے آ رہے ہیں۔ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ انہیں مذہبی حلقوں اور اثر و رسوخ رکھنے والے علماء کی حمایت بڑے پیمانے پر حاصل ہے،

لیکن افغان علماء کی جانب سے ہی یہ مطالبہ سامنے آنا کہ طالبان خود کو شدت پسندی و دہشتگردی سے الگ کر لیں ہر کسی کے لئے حیرانی کا باعث بنا ہے۔وائس آف امریکہ کے مطابق افغان علماء کی بہت بڑی تعداد نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان شدت پسند و دہشتگرد گروپوں کی حمایت چھوڑ کر افغان حکومت کے ساتھ امن و مفاہمتی عمل میں شامل ہوجائیں۔ افغان ہائی پیس کونسل، جو کہ حکومتی امداد سے چلنے والا ادارہ ہے جس کامقصد شدت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، نے افغانستان کے 34 صوبوں سے 700 سے زائد علماء کو مدعو کیا تھا۔ ان تمام علماء نے دارالحکومت کابل میں منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کی جس کے دوران امن کے امکانات پر غور و خوض کیا گیا تاکہ افغانسان میں گزشتہ 16 سال سے جاری خانہ جنگی کا اختتام کیا جاسکے۔کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ’’طالبان کو چاہیے کہ اپنی صفوں سے ان تمام عناصر کو نکال باہر کریں جن کا تعلق بین الاقوامی دہشتگردی سے ہے اور جو اسلامی و افغان اقدار کے لئے کوئی احترام نہیں رکھتے۔‘‘ کانفرنس میں شرکت کرنے والے مذہبی سکالر عطاء اللہ فیضانی کا کہنا تھا طالبان کو افغان عوام کی امنگوں کا احترام کرنا چاہیے اور افغان ملکیتی و بین الافغان امن بات چیت میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کے جو بھی مطالبات ہیں انہیں پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے پورا ہونا چاہیے۔ انہیں تشدد کا فوری طور پر خاتمہ کرنا چاہیے جبکہ

خود کش حملوں، بم دھماکوں اور معصوم عوام کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کا بھی فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔‘‘ علماء کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں افغان حکومت پر بھی زور دیاگیا ہے کہ وہ لچک کا رویہ اپنائے اور بحالی امن کے عمل کو صبر تحمل کے ساتھ مکمل کرنے کی سعی کرے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…