جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں پیک غذاؤں میں تیزاب ملادیاگیا،10 لاکھ افراد متاثر ،چونکادینے والے انکشافات

datetime 1  جنوری‬‮  2018 |

ایتھنز(مانیٹرنگ ڈیسک) یونان میں ماحولیاتی دہشت گردوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انتہائی مضر صحت ہائیڈرو کلورک ایسڈ انجکشن کے ذریعے سپر اسٹور کی غذاؤں اور مشروبات میں داخل کردیا ہے۔یہ تصاویر اب سوشل میڈیا پر بھی جاری کردی گئی ہیں جس کے بعد یونان کے بڑے اسٹورز سے مخصوص اشیا ہٹادی گئی ہیں۔ ایتھنز اور تھیسالونکی کے شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ڈبہ بند گوشت، مقامی طور پر تیار کردہ دودھ کے

ڈبے اور کولڈ ڈرنک نہ خریدیں کیونکہ ان میں تیزاب اور دیگر خطرناک اجزاء ہوسکتے ہیں۔ اب تک اس اقدام سے دونوں شہروں کے 10 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کا ایک فعل ہے اور ایسا کرنے والے سیاسی کارکن نہیں بلکہ مجرم ہیں۔ افراتفری پھیلانے والوں (انارکسٹس) کا ایک گروپ خود کو ’بلیک گرین آرسونسٹس‘ کہتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کرسمس پر زندگی سے خالی لاکھوں افراد کو یہ کمپنیاں اپنا کوڑا کرکٹ دیدہ زیب پیکنگ میں بند کرکے فروخت کرتی ہیں تاکہ لوگوں کے جسم سے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیا جائے۔اسی لیے بقول اس گروپ کے انہوں نے مخصوص اشیاء کا انتخاب کیا ہے جن میں کوکا کولا اور کوکا لائٹ کی ڈیڑھ لیٹر بوتل، یفانٹس گوشت کے پیکٹ اور ڈیلٹا دودھ کے ڈبے شامل ہیں۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس نے 20 دسمبر کو کئی اسٹور سے یہ اشیا خریدیں اور ان میں تیزابی ٹیکے لگاکر انہیں 24 دسمبر کو واپس کردیا اور اب یہ اسٹور کے شیلفوں میں رکھی ہیں۔شرپسند گروپوں نے کہا ہے کہ انہوں نے مشروبات میں ہائیڈرو کلورک ایسڈ شامل کیا ہے جو بے رنگ اور بے بو مائع ہے اور یہ تیزاب صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے اگر یہ پیٹ میں چلا جائے تو گلے کا شدید درد، خون کی الٹیاں اور موت بھی واقع ہوسکتی ہیں۔یونان میں اس گروپ کے اراکین زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہیں اور وہ اپنے اس عمل سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لیکن درحقیقت وہ معصوم اور بے گناہ افراد کو اپنی نفرت کا نشانہ بنارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…