جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایران میں جاری بد امنی ایک بڑی تحریک کا نقطہ آغاز ہے، شیریں عبادی

datetime 1  جنوری‬‮  2018 |

لندن (این این آئی)ایران کی نوبل امن انعام یافتہ وکیل شیریں عبادی نے کہا ہے کہ ملک میں جاری بد امنی ایک بڑی تحریک کا نقطہ آغاز ہے اور یہ تحریک 2009ء میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے بھی زیادہ دور رس نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔انھوں نے اطالوی اخبار لا ری پبلکا سے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں یہ مظاہرے بہت جلد ختم ہونے کے نہیں۔ یہ ایک بڑی احتجاجی تحریک کا آغاز ہیں اور

یہ 2009ء کی سبز تحریک سے بھی کہیں بڑھ کر ہوسکتے ہیں۔ایرا ن میں اتوار کو مسلسل تیسری شب حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان میں مختلف اطلاعات کے مطابق چار افراد مارے جاچکے ہیں ، دسیوں کا گرفتار کر لیا گیا ہے اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔ان مظاہروں کو 2009ء میں سابق صدر محمود احمدی نڑاد کے دوبارہ انتخاب کے خلاف برپا شدہ سبز تحریک کے دوران میں احتجاجی ریلیوں سے بھی بڑا خیال کیا جارہا ہے۔ تب ہزاروں ایرانیوں نے سڑکوں پر نکل کر صدارتی انتخابات کے نتائج میں مبینہ بدعنوانیوں دھاندلیوں کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا لیکن ان کی تحریک کو سکیورٹی فورسز کے ذریعیسختی سے دبا دیا گیا تھا۔لیکن لندن میں مقیم شیریں عبادی کا کہنا ہے کہ اب عوامی غیظ وغضب کی جڑیں تمام تر اقتصادی اور سماجی مسائل میں پیوست ہیں۔ ایران میں یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور وہاں ایک سنگین اقتصادی بحران درپیش ہے۔پورے ملک میں کرپشن انتہا ئی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کے 2015ء میں امریکا اور یورپ کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کے نتیجے میں پابندیوں کے خاتمے کے بعد بھی آبادی کو کچھ فائدہ نہیں ہوا حالانکہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ پابندیوں کے خاتمے سے ایرانیوں کے حالات میں بہتری آئے گی۔اس پر مستزاد یہ حقیقت ہے کہ ایران بہت زیادہ فوجی اخراجات کررہا ہے۔ لوگ بھاری فوجی اخراجات کے حق میں نہیں

ہیں اور اس صورت حال میں نوجوان سب سے زیادہ مایوس ہوئے ہیں۔شیریں عبادی کا مزید کہنا تھا اور وہ ملک میں بے روز گاری کی بلند شرح ، بدعنوانیوں اور سنسر شپ کے ماحول کا حوالہ دے رہی تھیں۔2003ء میں نوبل امن انعام پانے والی ایرانی خاتون کا کہنا تھا کہ ابتر اقتصادی صورت حال اور امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہی دو ایسے عوامل ہیں جو دراصل ان احتجاجی مظاہروں کی جڑ ، بنیاد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…