جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلیا: طیارہ دریا میں گر کر تباہ، 6 افرا د ہلاک

datetime 1  جنوری‬‮  2018 |

سڈ نی (آن لائن )آآسٹریلیا میں سڈنی ہاربر میں نئے سال کے جش کے آغاز سے چند لمحے قبل ایک جہاز(سی پلین) دریا میں گرنے سے 6 افراد ہلاک ہوگئے۔پولیس کا کہنا تھا کہ حادثہ سڈنی سے شمال کی جانب 50 کلومیٹر دور ہاکس بے ریور کے قریب پیش آیا۔جہاز کے گرتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور پولیس کے مطابق غوطہ خوروں نے جہاز میں سوار تمام 6 افراد کی لاشوں کو نکال لیا ہے تاہم ان کی

شناخت نہیں ہوسکی۔آسٹریلیا کے میڈیا کی غیرمصدقہ رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے 4 افراد کا تعلق برطانیہ سے تھا۔برطانوی دفتر خارجہ بھی اس حوالے سے کسی رپورٹ کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے حکام سے رابطے میں ہیں۔پولیس کے قائم مقام سپرینٹنڈنٹ مائیکل گورمان نے میڈیا کو بتایا کہ سمندر کے اوپر اڑنے والا ایک انجن پر مشتمل جہاز پانی کے اوپر 13 کلومیٹر تک چل رہا تھا۔

ایک عینی شاہد مائلز بیپٹسٹ نے مقامی چینل نائن کو بتایا کہ انھوں نے جہاز کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جہاز دائیں جانب ایک مشکل موڑ لے رہا تھا جو درحقیقت گھومنے کے لیے تھا تاہم اس کے پرپانی میں چلے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا جہاز سیدھے ڈوب گیا’۔خیال رہے کہ سڈنی سی پلینز آسٹریلیا میں ہنی مون منانے

کے لیے آنے والے غیرملکیوں اور مشہور شخصیات میں بہت مقبول ہیں۔آسٹریلیا کے ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو کا حادثے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ایک ڈی ایچ۔2 بیور سی پلین طیارہ سڈنی ہاربر میں روز بے کی جانب واپسی پرواز میں تھا۔یاد رہے کہ سڈنی ہاربر میں نئے سال کا جشن منانے سے چند لمحوں قبل یہ حادثہ پیش آیا جہاں پر آتش بازی کا شاندار مظاہرے کی تیاریاں جارہی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…