جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’امریکہ کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کر سکتا‘‘ ایٹم بم چلانے کا بٹن ہر وقت میری میز پر ہوتا ہے، کم جانگ ان کی دھمکی

datetime 1  جنوری‬‮  2018 |

پیا نگ یانگ (آن لائن)شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا ہے کہ ‘امریکہ کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کر سکتا ہے‘ کیونکہ جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت اْن کی میز پر موجود ہوتا ہے۔سالِ نو کے موقع پر ٹی وی پر نئے سال کے اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پورا امریکہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی پہنچ میں ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‘یہ حقیقت ہے، کوئی دھمکی نہیں۔’تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے جنوبی کوریا کے

لیے زیتون کی ایک مضبوط شاخ کی پیشکش کی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔۔انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا سیول میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں اپنی ٹیم بھیج سکتا ہے۔گذشتہ سالوں کے دوران جوہری پروگرام اور بار بار میزائل کے تجربے کے سبب شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔سیاسی طور پر تنہا کر دیے جانے والے ملک شمالی کوریا نے سال 2017 میں چھ زیر زمین جوہری تجربے کیے اور زیادہ صلاحیت والے میزائل کے تجربے کا مظاہرہ کیا ہے۔نومبر میں اس نے ہواسانگ۔15 کا تجربہ کیا جس نے4475 کلو میٹر کی بلندی پر سفر کیا، جو بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی اونچائی سے دس گنا سے بھی زیادہ ہے۔شمالی کوریا نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اس نے ایسا جوہری ہتھیار تیار کرلیا ہے جسے کبھی بھی میزائل کے ذریعے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ بہر حال بین الاقوامی سطح پر اس کی اصل صلاحیت پر شک و شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اپنے ٹی وی خطاب میں کم جونگ ان نے اپنے اسلحے کے پروگرام پر توجہ مرکوز کرنے پر دوبارہ زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو ‘بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیار اور بیلسٹک میزائل تیار کرنے چاہیے اور ان کی تنصیب میں تیزی لانی چاہیے۔’لیکن انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ جنوبی اور شمالی کوریا ابھی

بھی تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہیں لیکن آنے والے سال میں اس میں کمی آ سکتی ہے۔انھوں نے کہا: ‘سنہ 2018 شمالی اور جنوبی دونوں کوریا کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ شمالی کوریا اپنی 70 ویں سالگرہ منا رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا سرمائی اولمپکس منعقد کروا رہا ہے۔اس بیان کو پہلے کی بیان بازیوں کے مقابلے میں کم جانگ ان کے لہجے میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔کم جانگ ان نے کہا کہ کھیلوں کے لیے وہ فروری میں اپنا ایک وفد جنوبی کوریا بھیجنے پر غور کریں گے جس کے بارے میں جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ وہ ایسے کسی اقدام کا خیر مقدم کریں گے۔کم جانگ ان نے کہا: ‘شمالی کوریا کی سرمائی اولمپکس میں شرکت دونوں ممالک کے باشندوں میں اتحاد کے مظاہرے کا اچھا موقع ہے اور ہماری خواہش ہے کہ کھیل کا انعقاد کامیابی سے ہمکنار ہو۔’دونوں ممالک کے حکام اس کے امکانات کے لیے فوری طور پر ملاقات کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…