جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بحر ہندو بحر الکاہل میں بڑھتے چینی اثر رسوخ سے خوفزدہ بھارت و امریکا ملکرسری لنکا پر چڑھ دوڑے،سنگین نتائج کی دھمکیاں،قرضوں کی پیشکش،چونکادینے والے انکشافات

datetime 31  دسمبر‬‮  2017 |

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن اور دہلی سری لنکا پر چین سے سر لنکن بندرگاہ ہمبنٹوٹاکی ڈیل کے خاتمے کے لئے زور ڈال رہے ہیں، امریکا اور بھارت بحر ہند اور بحر الکاہل میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ ہیں۔ چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور بھارت سری لنکا پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ سری لنکا چین سے 99سالہ لیز پر دی گئی ہمبنٹوٹا بندرگاہ کا معاہدہ منسوخ کرے ۔ اس ضمن میں بھارت اور امریکا کی جانب سے

سری لنکا کو لالچ بھی دیا جا رہا ہے اور سری لنکن قرض کی ادائیگی بھی کرنے کی حامی بھری جا رہی ہے۔ بھارت اور امریکا کے ان اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ یہ دونوں ممالک چین کی ترقی اور بحر ہند میں بڑھتے اثرو رسوخ سے انتہائی خوفزدہ ہیں۔ امریکا بھارت کو استعمال کرتے ہوئے چین کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ بندر گاہ سرکاری طور پر 9دمبر کو چین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس بندرگاہ کو میری ٹائم سلک روڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ ہمبنٹوٹا بندگاہ کے 70فیصد حصص چین کے اور 30فیصد سری لنکن حکومت کے ہیں۔ چین کا اس بند گاہ کے کنٹرول کا مقصد چین کی تیل اور دیگر توانائی کی فراہمی تک رسائی کو آسان اور ممکن بنانا ہے۔ اس حوالے سے دو چینی کمپنیوں کو 32سال کے لئے ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔ کولمبو بندرگاہ کے قریب 15 ہزار ایکڑ زمین بھی چینی کمپنیاں ایک صنعتی زون بنانے کے لئے سنبھال رہی ہیں۔  واشنگٹن اور دہلی سری لنکا پر چین سے سر لنکن بندرگاہ ہمبنٹوٹاکی ڈیل کے خاتمے کے لئے زور ڈال رہے ہیں، امریکا اور بھارت بحر ہند اور بحر الکاہل میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ ہیں۔ چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور بھارت سری لنکا پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ سری لنکا چین سے 99سالہ لیز پر دی گئی ہمبنٹوٹا بندرگاہ کا معاہدہ منسوخ کرے ۔  اس ضمن میں بھارت اور امریکا کی جانب سے سری لنکا کو لالچ بھی دیا جا رہا ہے اور سری لنکن قرض کی ادائیگی بھی کرنے کی حامی بھری جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…