جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے، ،قبائل آزاد ہیں،مولانا فضل الرحمن نے ’’آزادی کیلئے جنگ‘‘ کا اعلان کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قبائل آزاد ہیں، زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں، پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے، آزادی کیلئے جنگ لڑ رہا ہوں، عوامی رائے کے فیصلے کیخلاف کوئی آپشن قبول نہیں کرینگے۔ہفتہ کو فاٹا سپریم کونسل کے انضمام نامنظور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن

نے کہا کہ قبائل آزاد ہیں اور آزاد رہیں گے ، میں نے ہمیشہ کشمیر کی حق ارادیت کی ہے اور آزاد قبائل کے حق ارادیت کی بات بھی کرتا رہونگا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد قبائل کیساتھ یکجہتی کیلئے عائشہ گلالئی کے آنے پر ان کا شکر گزار ہوں ۔انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیوں کو کہنا چاہونگا کہ آپ کے کارکن آزاد قبائل کے اس جلسے میں شریک ہیں وہ اپنی پارٹیوں کے قبائل مخالف موقف سے خوش نہیں ہیں،آپ کن کی خوشی کیلئے ایسا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ جمہوری ادارہ ہے۔ میں مانتا ہوں مگر پارلیمنٹ ہو یا حکومت ہو، وہ ملک کے جغرافیے کو تبدیل نہیں کر سکتی، قبائل آزاد ہیں، ان کو زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اگر قبائل کی آزادی چھینی گئی تو آ ج ہی جیل جانے کیلئے تیار ہوں، انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ میں ایک گھنٹے کیلئے بھی پاکستان میں غلامی کی زندگی نہیں گزارونگا، انہوں نے کہا کہ میں آزادی کیلئے جنگ لڑ رہا ہوں ، ہم آزادی کی باتیں کرینگے کیونکہ ہم ہمیشہ آزادی پسند رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عوامی رائے کے فیصلے کیخلاف کوئی آپشن قبول نہیں کرینگے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قبائل آزاد ہیں، زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…