اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے، ،قبائل آزاد ہیں،مولانا فضل الرحمن نے ’’آزادی کیلئے جنگ‘‘ کا اعلان کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قبائل آزاد ہیں، زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں، پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے، آزادی کیلئے جنگ لڑ رہا ہوں، عوامی رائے کے فیصلے کیخلاف کوئی آپشن قبول نہیں کرینگے۔ہفتہ کو فاٹا سپریم کونسل کے انضمام نامنظور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن

نے کہا کہ قبائل آزاد ہیں اور آزاد رہیں گے ، میں نے ہمیشہ کشمیر کی حق ارادیت کی ہے اور آزاد قبائل کے حق ارادیت کی بات بھی کرتا رہونگا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد قبائل کیساتھ یکجہتی کیلئے عائشہ گلالئی کے آنے پر ان کا شکر گزار ہوں ۔انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیوں کو کہنا چاہونگا کہ آپ کے کارکن آزاد قبائل کے اس جلسے میں شریک ہیں وہ اپنی پارٹیوں کے قبائل مخالف موقف سے خوش نہیں ہیں،آپ کن کی خوشی کیلئے ایسا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ جمہوری ادارہ ہے۔ میں مانتا ہوں مگر پارلیمنٹ ہو یا حکومت ہو، وہ ملک کے جغرافیے کو تبدیل نہیں کر سکتی، قبائل آزاد ہیں، ان کو زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اگر قبائل کی آزادی چھینی گئی تو آ ج ہی جیل جانے کیلئے تیار ہوں، انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ میں ایک گھنٹے کیلئے بھی پاکستان میں غلامی کی زندگی نہیں گزارونگا، انہوں نے کہا کہ میں آزادی کیلئے جنگ لڑ رہا ہوں ، ہم آزادی کی باتیں کرینگے کیونکہ ہم ہمیشہ آزادی پسند رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عوامی رائے کے فیصلے کیخلاف کوئی آپشن قبول نہیں کرینگے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قبائل آزاد ہیں، زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…